உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jio Platforms Q2 results: ریلائنس جیو کا نیٹ پرافٹ 23.5 فیصد بڑھ کر 3528 کروڑ روپئے رہا، آمدنی 18735 کروڑ روپئے

    ریلائنس جیو کا نیٹ پرافٹ 23.5 فیصد بڑھ کر 3528 کروڑ روپئے رہا

    ریلائنس جیو کا نیٹ پرافٹ 23.5 فیصد بڑھ کر 3528 کروڑ روپئے رہا

    Jio Platforms Q2 results: ستمبر سہ ماہی میں کمپنی کی اسٹینڈ الون آمدنی 18735 کروڑ روپئے رہی۔ اس سے پہلے جون سہ ماہی میں کمپنی کی آمدنی 17,994 کروڑ روپئے تھی۔

    • Share this:
      Jio Platforms Q2 results: ریلائنس انڈسٹریز (RIL) کی ٹیلی کام اکائی ریلائنس جیو (Reliance Jio) کا اسٹینڈ لون نیٹ پرافٹ ستمبر 2021 سہ ماہی میں 3528 کروڑ روپئے رہی۔ اس سال جون سہ ماہی میں کمپنی کو نیٹ پرافٹ 3501 کروڑ روپئے تھا۔

      ستمبر سہ ماہی میں کمپنی کی اسٹینڈ لون آمدنی 18735 کروڑ روپئے رہی۔ اس سے پہلے جون سہ ماہی میں کمپنی کی آمدنی 17,994 کروڑ  روپئے تھی۔ کمپنی کا اسٹینڈ آلون EBITDA (earnings, before interest, depreciation and amortization) ستمبر سہ ماہ میں 8989 کروڑ روپئے رہا۔ اس دوران کمپنی کا مارجن 48 فیصد رہا۔

      کیا رہا ایوریج ریوینیو فی صارف (اے آرپی یو)

      ستمبر 2021 سہ ماہی میں جیو کی ایوریج ریوینیو فی صارف ہر ماہ 143.6 روپئے رہا۔ اس سہ ماہی میں کل ڈیٹا ٹریفک سہ ماہی شرح سہ ماہی بنیاد پر 50.9 فیصد بڑھ کر 23 ارب جی بی رہی۔ ستمبر 2021 تک جیو کا کل کسٹمر بیس 42.95 کروڑ صارف تھے۔ 30 ستمبر سہ ماہی میں 2.38 کروڑ روپئے صارف جڑے ہیں۔ جیو اور گوگل مل کر JioPhone Next پر کام کر رہے ہیں۔ دیوالی سے پہلے یہ فون لانچ ہونے والا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے سستا اسمارٹ فون ہوگا۔

      کیسے رہیں ریلائنس انڈسٹریز کے نتائج؟

      مارکیٹ کیپ کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز نے دوسری سہ ماہی کے نتائج کا اعلان کردیا ہے۔ 30 ستمبر 2021 کو ختم ہوئی سہ ماہی میں کمپنی کا منافع 13,680 کروڑ روپئے پر رہا ہے۔ جبکہ گزشتہ یعنی جون سہ ماہی میں کمپنی کا منافع 12,273 کروڑ روپئے رہا تھا۔ واضح رہے کہ دوسری سہ ماہی میں کمپنی کے منافع کے  12,480 کروڑ روپئے پر رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

      DISCLAIMER: Network18 and TV18 – the companies that operate news18urdu.com – are controlled by Independent Media Trust, of which Reliance Industries is the sole beneficiary.)
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: