உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نیسچل شیٹھی نے کیوں شروع کی India Wants Crypto مہم؟ جانئے کرپٹو کارنسیوں سے متعلق تفصیلات

    نیسچل شیٹھی۔(تصویر:CNBCTV18)۔

    گزشتہ ایک دہائی میں بٹ کوائن جیسی کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، لیکن اس میں وقتا فوقتا تیزی سے کمی کا مشاہدہ ہورہا ہے۔ شیٹی سرمایہ کاروں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ قیمتوں میں اضافے کو دیکھیں اور کرپٹو کرنسیوں میں مجموعی دلچسپی لیں۔ کسی بھی کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ کیپ میں اضافے کا تعین چار بڑے عوامل سے ہوتا ہے۔

    • Share this:
      یکم نومبر 2018 کو WazirX کے شریک بانی نیسچل شیٹھی نے #IndiaWantsCrypto کے نام سے ایک ٹویٹر مہم شروع کی۔ اس مہم کے پیچھے یہ خیال تھا کہ ہر دن کم سے کم ایک ٹویٹ پوسٹ کیاجائے تاکہ کریپٹو کرنسیوں کے بارے میں شعوربیدار کیا جاسکے اور پالیسی سازوں کو اپنے ارد گرد سازگار طریقہ کار لانے کے لئے متاثر کریں۔حال ہی میں اس  مہم کے 1000  دن مکمل ہوگئےہیں۔

      یہاں شیٹی کے ٹویٹس سے حاصل کردہ کچھ حقائق اور معلومات ان کی #IndiaWantsCrypto مہم کے حصے کے طور پر پیش کی جارہی ہے۔

      بٹ کوائن Bitcoin کا ایک عشرے پہلے چند سینٹ cents سے بڑھ کر تقریبا 37000 ڈالر تک بڑھ جانا اکثر کئی ماہرین کو شک میں ڈال دیتا ہے۔ بٹ کوائن اب تک کیوں بڑھا ہے اس کے بارے میں شیٹی کی دلیل سادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ کسی بھی دوسرے اثاثہ کلاس سے زیادہ قابل رسائی ہے (صرف موبائل + انٹرنیٹ کی ضرورت ہے) 2. یہ ڈیجیٹل ہے 3. اس کی جغرافیائی حدود نہیں ہیں۔ 4. کوئی ملک یا شخص اسے نہیں چلاتا۔ 5. ہر کوئی اس کے بارے میں بات کرتا ہے‘‘۔


      پھر بھی بٹ کوائن کے نظریہ میں امید افزا بات نظر آتی ہے، سرمایہ کار اکثر سوچتے ہیں کہ بٹ کوائن کی قدر کیسے کی جائے بشرطیکہ اس میں اسٹاک یا بانڈز کی طرح نقد بہاؤ نہ ہو۔ شیٹی کے مطابق بٹ کوائن 100 ملین سے زیادہ کے اپنے صارف نیٹ ورک سے اپنی قیمت حاصل کرتا ہے۔ انٹرنیٹ میں 4.73 ارب لوگ ہیں۔ بٹ کوائن ان میں سے ہر ایک کے لیے قابل رسائی ہے۔ انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ آج کے کرپٹو کی قیمتیں اس حقیقت پر مبنی ہیں کہ کرپٹو انٹرنیٹ کی آبادی کا صرف 3 فیصد ہے۔ ابھی بہت بڑی تعداد میں لوگ داخل نہیں ہوئے ہیں۔

      اگرچہ گزشتہ ایک دہائی میں بٹ کوائن جیسی کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، لیکن اس میں وقتا فوقتا تیزی سے کمی کا مشاہدہ ہورہا ہے۔ شیٹی سرمایہ کاروں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ قیمتوں میں اضافے کو دیکھیں اور کرپٹو کرنسیوں میں مجموعی دلچسپی لیں۔ کسی بھی کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ کیپ میں اضافے کا تعین چار بڑے عوامل سے ہوتا ہے۔ شرکا کی تعداد ، منصوبوں کی تعداد ، سرمایہ سرمایہ کاری اور قوم کی طرف سے مثبت دلچسپی۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال میں چاروں عوامل میں اضافہ ہوا ہے‘‘۔


      شیٹی غیر فنگبل ٹوکن (این ایف ٹی) کے وعدے کے بارے میں بے حد پر امید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے کریپٹو کرینسی ٹیکنالوجی کو اپنانے میں 120 ملین سے 1 بلین تک جانے میں مدد ملے گی۔ “لاکھوں فنکار سیکڑوں لاکھوں افراد کو کریپٹو میں لائیں گے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ’’ این ایف ٹی 'اچھے سے ہونا ہونا چاہیے‘‘۔

      شیٹی نے ٹویٹ کیا کہ ’’ضابطہ اخلاق میں کریپٹو کا اگلا بڑا بز ورڈ ہوگا۔ دنیا بھر کے ممالک ریگولیٹری شروع کردیں گے۔ ضوابط کی پہلی لہر مرکزی اداروں پر ہوگی۔ مجموعی طور پر ضوابط وضاحت لاتے ہیں اور اس سے صنعت کو تیزی سے بڑھنے میں مدد ملتی ہے‘‘۔ ایک اور ٹویٹ میں شیٹی نے ایک دلچسپ بات کی کہا کہ ضابطے ہمیشہ جدت کے بعد آتے ہیں۔

      اگر ہندوستان میں کاروباری افراد انٹرنیٹ کمپنیاں شروع کرنے سے پہلے قواعد و ضوابط کا انتظار کرتے تو ہماری کوئی ہندوستانی کمپنی کا آغاز نہں ہوتاتھا۔ ریگولیشن کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایکو سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماحولیاتی نظام کی تعمیر میں مدد کے لئے ہندوستانی تاجروں کو کرپٹو میں آغاز کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

      شیٹی کے بقول کارپوریٹ امور کی وزارت نے کمپنیوں سے اپنی کریڈو کرینسی آمدنی ظاہر کرنے کے لئے کہا کہ ان کا فیصلہ ایک مثبت اقدام ہے۔ اس سے لوگوں اور کارپوریٹس میں اعتماد بڑھتا ہے جو ہندوستان میں کرپٹو کے ساتھ کام کر رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں مزید کہا کہ دنیا بھر میں کارپوریٹس کرپٹو ایکسپوزر حاصل کر رہے ہیں۔ یہ مددگار ہے۔ اس نئی ٹیک میں مہارت کو قائم کرنے کے لئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

      شیٹی نے اس پر بھی روشنی ڈالی کہ مرکزی دھارے میں آنے والی کمپنیوں جیسے ویزا کی طرف سے ادائیگی کے طریقہ کار کے طور پر بٹ کوائن کو اپنانے میں اضافہ بٹ کوائن کے لئے ایک بہت بڑی ترقی ہے اور دوسرے بینکوں کو بھی اس پر غور کرنا چاہئے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’اس حقیقت پر غور کرنے کا پابند تھا کہ اس سے ادائیگی کے معاملات فوری حل ہوجاتے ہیں‘‘۔ ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان میں بینکوں کو ابھی تک اس بارے میں یہ نہیں کہا گیا کہ وہ کیا رخ اختیار کرے۔ جتنی جلدی وہ کرپٹو ٹکنالوجی کو متحد کریں گے، اس کا مقابلہ اتنی تیزی سے کرسکیں گے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: