உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Reliance JIO کے پانچ سال بے مثال ، ایسے بدل ڈالی ٹیلی کام انڈسٹری کی تصویر 

    Reliance JIO کے پانچ سال بے مثال ، ایسے بدل ڈالی ٹیلی کام انڈسٹری کی تصویر 

    Reliance JIO کے پانچ سال بے مثال ، ایسے بدل ڈالی ٹیلی کام انڈسٹری کی تصویر 

    5 Years of Jio: ریلائنس جیو نے ڈیجیٹل معیشت (Digital Economy) کو بھی سہارا دیا ۔ ادائیگی کیلئے آج بڑی تعداد میں صارفین نقدی چھوڑ کر کر ڈیجیٹل ادائیگی پلیٹ فارم کا استعمال کرنے لگے ہیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : پانچ سال پہلے جب مکیش امبانی نے ریلائنس جیو کے لانچ کا اعلان کیا تو کسی کو بھی گمان نہیں تھا کہ جیو، ملک کی ڈیجیٹل معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا ۔ ہندوستان میں انٹرنیٹ کی شروعات ہوئے 26 سال ہوچکے ہیں ۔ کئی ٹیلی کام کمپنیوں نے اس سیکٹر میں ہاتھ آزمائے ، لیکن کم و بیش سبھی کمپنیوں کا فوکس وائس کالنگ پر ہی تھا ۔ 5 ستمبر 2016 کو جیو کی لانچنگ پر مکیش امبانی نے ’’ ڈیٹا از نیو آئل‘‘ کا نعرہ دیا اور پھر اس سیکٹر کی تصویر بدل گئی ۔ اکتوبر سے دسمبر 2016 کی ٹرائی کی پرفارمینس انڈیکیٹر رپورٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فی یوزر ڈیٹا کی کھپت صرف 878;46;63 ایم بی تھی ۔ ستمبر 2016 میں جیو لانچ کے بعد ڈیٹا کھپت میں زبردست دھماکہ ہوا اور ڈیٹا کی کھپت 1303 فیصد بڑھ کر 12;46;33 جی بی ہوگئی ۔

      جیو کے مارکٹ میں اترنے کے بعد صرف ڈیٹا کی کھپت ہی نہیں بڑھی بلکہ ڈیٹا یوزرس کی تعداد میں بھی بھاری اصافہ دیکھنے کو ملا ۔ ٹرائی کی براڈ بینڈ سبسکرائبر رپورٹ کے مطابق 5 سال پہلے کے مقابلہ میں براڈ بینڈ کی تعداد 4 گنا بڑھ چکی ہے ۔ جہاں ستمبر 2016 میں 19;46;23 کروڑ براڈ بینڈ گراہک تھے وہیں جون 2021 میں 79;46;27 کروڑ ہوگئے ہیں ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈیٹا کی کھپت میں اضافہ اور انٹرنیٹ یوزرس کی تعداد میں بھاری اضافہ کی وجہ ڈیٹا کی قیمتوں میں ہوئی کمی ہے ۔ دراصل جیو کی لانچنگ سے پہلے تک 1 جی بی ڈیٹا کی قیمت قریب 160 روپے فی جی بی تھی جو 2021 میں گھٹ کر 10 روپے فی جی بی سے بھی نیچے آگئی ۔ یعنی پچھلے 5 سالوں میں ملک میں ڈیٹا کی قیمتیں 93 فیصد کم ہوئیں ۔ ڈیٹا کی کم ہوئی قیمتوں کی وجہ سے آج ملک دنیا میں سب سے کفایتی انٹرنیٹ دستیاب کرانے والے ملکوں کی لسٹ میں شامل ہے ۔

      ڈیٹا کی قیمتیں کم ہوئیں تو ڈیٹا کی کھپت بڑھ گئی ۔ ڈیٹا کھپت بڑھی تو ڈیٹا کی پیٹھ پر سوار کام دھندوں کے پنکھ نکل آئے ۔ آج ملک میں 53 یونیکارن کمپنیاں ہیں ، جو جیو کے ڈیٹا انقلاب سے پہلے تک 10 ہوا کرتی تھیں ۔ ای کامرس ، آن لائن بُکنگ، آرڈر پلیسمنٹ، آن لائن انٹرٹینمنٹ، آن لائن کلاسیز جیسے الفاظ سے ہندوسستان کا امیر طبقہ ہی واقف تھا ۔ آج ریلوے بُکنگ کھڑکیوں پر لائنیں نہیں لگتیں ، کھانا آرڈر کرنے کیلئے فون پر انتظار نہیں کرنا پڑتا ، کس سنیما ہال میں کتنی سیٹیں کس رو میں خالی ہیں ، بس ایک کلک سے پتہ چل جاتا ہے ، یہاں تک کی گھر کی رسوئی کی خریداری بھی آن لائن مال دیکھ پرکھ کر اور ڈسکاونٹ پر کی جارہی ہے ۔


      آن لائن دھندے چل پڑے ، تو ان کی ڈیلیوری کیلئے ایک پورا چین کھڑا کرنا پڑا ۔ موٹر سائیکل پر کسی خاص کمپنی کا سامان ڈیلیور کرنے والے ملازمین کا سڑک پر دکھائی دینا اب بے حد عام بات ہے ۔ موٹر سائیکل کے پہیے گھومے تو ہزاروں لاکھوں کنبوں کو روزی روٹی ملی ۔ زومیٹو کے سی ای او نے کمپنی کے آئی پی او لسٹنگ کے اہم دن ریلائنس جیو کا شکریہ ادا کیا ۔ یہ شکریہ یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ ریلائنس جیو، ہندوستانی انٹرنیٹ کمپنیوں کیلئے کیا معنی رکھتا ہے ۔ نیٹ فلکس کے سی ای او ریڈ ہیسٹنگ نے امید ظاہر کی تھی کہ کاش جیو جیسی کمپنی ہر ملک میں ہوتی اورڈیٹا سستا ہوجاتا ۔

      ریلائنس جیو نے ڈیجیٹل معیشت کو بھی سہارا دیا ۔ ادائیگی کیلئے آج بڑی تعداد میں صارفین نقدی چھوڑ کر کر ڈیجیٹل ادائیگی پلیٹ فارم کا استعمال کرنے لگے ہیں ۔ اس ڈیجیٹل ٹراسفارمیشن میں ریلائنس جیو کا اہم رول ہے ۔ 2016 کے بعد سے ہی ملک میں ڈیجیٹل لین دین کی قیمت اور سائز دونوں بڑھے ہیں ۔ یو پی آئی لین دین کی قیمت تقریبا 2 لاکھ گنا اور سائز تقریا 4 لاکھ گنا بڑھا ہے ۔ ظاہر ہے اس طرح کے ایپس کے ڈاون لوڈ میں بھی بھاری اضافہ دیکھنے کو ملا ۔ 2016 کے 6.5 ارب ڈاون لوڈیڈ ایپس کے مقابلہ میں یہ اعدادو شمار 2019 میں 19 ارب ہوگئے ۔

      DISCLAIMER: Network18 and TV18 – the companies that operate news18urdu.com – are controlled by Independent Media Trust, of which Reliance Industries is the sole beneficiary.
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: