ایل آئی سی کے پاس لاوارث تو نہیں پڑے آپ کے پیسے! گھر بیٹھے ایسے کریں چیک

ملک کی بیمہ کمپنیوں کے پاس بیمہ صارفین کے 16887.66 کروڑ روپئے لاوارث پڑے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ستمبر 2018 تک کے ہیں۔

Jul 02, 2019 05:09 PM IST | Updated on: Jul 02, 2019 05:16 PM IST
ایل آئی سی کے پاس لاوارث تو نہیں پڑے آپ کے پیسے! گھر بیٹھے ایسے کریں چیک

ایل آئی سی کے پاس لاوارث تو نہیں پڑے آپ کے پیسے! گھر بیٹھے ایسے کریں چیک

ملک کی بیمہ کمپنیوں کے پاس بیمہ صارفین کے  16887.66 کروڑ روپئے لاوارث پڑے ہیں۔  یہ اعداد و شمار ستمبر 2018 تک  کے ہیں۔ بھارتی انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آئی آر ڈی ای آئی) نے بیمہ کمپنیوں سے اس طرح کے بیمہ صارفین کی شناخت کرنے اور انہیں ان کا پیسہ واپس لوٹانے کی ہدایات کئی بار جاری کی ہیں۔ ہر بیمہ کمپنی میں پالیسی ہولڈر کی حفاظت کے لئے بنائی گئی ڈائریکٹری سطح کی کمیٹی کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ بیمہ صارفین کے سبھی بقایہ جات کی بروقت ادائیگی کرے۔ اگر آپ کا بھی بیمہ کمپنی ایل آئی سی یا پھر کسی دیگر کے پاس پیسہ ہے تو آپ اس کے بارے میں کیسے پتہ کر سکتے ہیں۔ اس کی جانکاری آج ہم آپ کو دے رہے ہیں۔

کیسے کریں پتہ: آئی آر ڈی اے آئی نے انشورنس کمپنیوں کو اپنی ویب سائٹ پر سرچ کی سہولت فراہم کرنے کے لئے کہا ہے۔ اس کی مدد سے پالیسی ہولڈر اس بات کا پتہ لگا سکتے ہیں کہ کیا ان کے نام پر ان کمپنیوں کے پاس کوئی بغیر دعوے والی رقم تو نہیں ہے۔

Loading...

پالیسی ہولڈر یا استفادہ کنندہ کو بغیر دعوے والی رقم کا پتہ لگانے کے لئے پالیسی نمبر، پالیسی ہولڈر کا پین، اس کا نام اور آدھار نمبر جیسی تفصیلات درج کرنے پڑتے ہیں۔ بیمہ کمپنیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹ پر بغیر دعوے والی رقم کے بارے میں بتائیں۔ یہ جانکاری انہیں ہر چھ مہینے میں دینی پڑتی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ سبھی کمپنیوں کی ویب سائٹ پر یہ سہولت دستیاب ہے۔ ایل آئی سی کے لئے دئیے گئے لنک کو کاپی کر کے ایڈریس بار میں اسے پیسٹ کریں۔

https://customer.onlinelic.in/LICEPS/portlets/visitor/unclaimedPolicyDues/UnclaimedPolicyDuesController.jpf

کس کا کتنا پیسہ بغیر دعوے کے۔ انشورنس سیکٹر کو لے کر بتایا گیا کہ ستمبر 2018 کے آخر تک لائف انشورنس سیکٹر میں  16887.66 کروڑ روپے کی بغیر دعویٰ کی رقم تھی جبکہ نان لائف انشورنس سیکٹر میں یہ رقم 989.62 کروڑ روپئے تھی۔

کیا ہوتا ہے اس رقم کا۔ جولائی 2017 میں انشورنس ریگولیٹر ارڈا نے ایک سرکلر جاری کیا تھا۔ اس میں سبھی بیمہ کمپنیوں کو ہدایت دی گئی تھی۔ ان سے 30 ستمبر 2017 تک 10 سال سے زیادہ کی مدت میں پالیسی ہولڈروں کی دعویٰ نہیں کی گئی رقم کو سینئر شہری فلاح وبہبود فنڈ میں ڈالنے کے لئے کہا گیا تھا۔ یہ کام انہیں یکم مارچ 2018 یا اس کے پہلے تک کر لینا تھا۔

Loading...