உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Income Tax Filing:کیا2021-22 میں ایک سے زیادہ کمپنیوں میں کیا کام، جانیے کیسے بھریں انکم ٹیکس ریٹرن؟

    انکم ٹیکس ریٹرن کو لے کر یہ معلومات آپ کے لئے کافی اہم ہوسکتی ہے۔

    انکم ٹیکس ریٹرن کو لے کر یہ معلومات آپ کے لئے کافی اہم ہوسکتی ہے۔

    Income Tax Filing: انکم ٹیکس ایکٹ( Income Tax Act) کے مطابق، ایمپلائر کو 15 جون تک اپنے ملازمین( Employees) کو فارم-16 (Form-16) جاری کرنا ہوتا ہے۔ اگر کسی ملازم کے مالی سال کے دوران TDS کی کٹوتی کی گئی ہے، تو اس ایمپلائر کو اپنے ملازم کو ٹی ڈی ایس سرٹیفکیٹ(TDS Certificate) جاری کرنا ہوگا۔

    • Share this:
      Income Tax Filing Tips: مالی سال 2021-22 اور اسیسمنٹ(Assessment Year) سال 2022-23 کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن( Income Tax Return) داخل کرنے کی آخری تاریخ فی الحال 31 جولائی 2022 ہے۔ ان ٹیکس دہندگان ( Taxpayers) کے لیے جن کے اکاؤنٹس کا آڈٹ نہیں ہونا ہے، یہ انکم ٹیکس ریٹرن( Income Tax Return Filing) فائل کرنے کی آخری تاریخ ہے۔ انکم ٹیکس ایکٹ( Income Tax Act) کے مطابق، ایمپلائر کو 15 جون تک اپنے ملازمین( Employees) کو فارم-16 (Form-16) جاری کرنا ہوتا ہے۔ اگر کسی ملازم کے مالی سال کے دوران TDS کی کٹوتی کی گئی ہے، تو اس ایمپلائر کو اپنے ملازم کو ٹی ڈی ایس سرٹیفکیٹ(TDS Certificate) جاری کرنا ہوگا۔

      مان لیجیے اگر آپ نے 2021-22 کے دوران ملازمت تبدیل کی ہے۔ تو ایسی صورت میں، آپ کو اپنے موجودہ اور سابق ایمپلائر سے فارم-16 لینا ہوگا۔ تاہم دو فارم 16 ہونے کی وجہ سے ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر، مجموعی قابل ٹیکس آمدنی، ایچ آر اے، ایل ٹی اے اور ٹیکس چھوٹ کا حساب لگانے میں پریشانی ہوتی ہے۔

      جانیے دو فارم-16 ہونے پر کیسے بھریں انکم ٹیکس ریٹرن
      سب سے پہلے مالی سال 2021-22 میں آپ نے جتنی بھی کمپنیوں میں کام کیا ہے، ان سبھی ایمپلائر جس میں موجودہ سے لے کر سابق ایمپلائر شامل ہیں، ان سبھی سے فارم16 لے لیں۔ فارم-16 کے حصہ B میں آپ کو ملنے والی تنخواہ کا بریک اپ لکھا ہوگا۔ جو بھی اکاونٹس پر ٹیکس چھوٹ ملتا ہے اور کٹوتی بھی لکھا ہوگا۔ آئی ٹی آر فائل کرتے وقت، آپ کو ایک ایک کرکے تمام کالم بھرنے ہوں گے۔

      ٹیکس دہندہ کو تمام ایمپلائر سے ملنے والے فارم-16 میں لکھی ہوئی ہر چیز کو الگ سے شامل کرنا ہوگا۔ جیسے ہر کمپنی میں ملنے والی مجموعی تنخواہ کو ایک ساتھ جوڑنا ہوگا۔ HRA اور LTA کو بھی جوڑنا ہوگا۔ ایک بار آپ کو یہ چیک کرنا ہوگا کہ آپ کتنے HRA اور LTA کا دعویٰ کرنے کے حقدار ہیں۔ آپ ایل ٹی اے پر ٹیکس چھوٹ کا دعوی صرف اس صورت میں کر سکتے ہیں جب آپ نے مالی سال کے دوران سفر کیا ہو اور آپ نے اس کا ثبوت اپنے ایمپلائر کو جمع کرایا ہو۔

      بھلے ہی آپ کے پاس ایک ساتھ زیادہ فارم 16 ہے، آپ انشورنس کی اصل رقم، ای پی ایف، پی پی ایف اور 1.50 لاکھ روپے سے زیادہ کے ہوم لون پر 80C کے تحت ٹیکس چھوٹ کا دعوی نہیں کر سکتے ہیں۔ ہر فارم 16 میں تنخواہ کی آمدنی میں 50,000 روپے کی معیاری کٹوتی لکھا ہوگا۔ لیکن دو فارم 16 میں 50,000 روپے + 50,000 روپے اسٹینڈرڈ کٹوتی لکھا ہوگا۔ لیکن آپ 1 لاکھ روپے کی اسٹینڈرڈ کٹوتی کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ حد صرف 50,000 روپے ہی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      RBI Governor:مہنگائی کولیکرآربی آئی گورنرنے ظاہرکی تشویش،جانیے کیامزیدبڑھے گا افراط زر؟

      یہ بھی پڑھیں:
      Facebook Meta Pay:ڈیجیٹل والیٹ’فیس بک پے‘کانام’میٹا پے‘کیا گیا،جانیے اب کیاہوں گی تبدیلیاں

      ایک بار جب آپ کے ذریعہ قابل ٹیکس آمدنی کا حساب لگایا جاتا ہے، ٹیکس دہندہ کو ٹیکس کی دین داری جوڑنا ہوگی۔ ایک بار جب آپ دیکھ لیں کہ کیا آپ پر جتنی ٹیکس کی دین داری ہوتی ہے اتنی ہی کٹوتی کمپنیوں نے کی ہے یا نہیں۔ فارم-16 کے پارٹ-اے میں اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر آپ پر ٹیکس کی کوئی دین داری ہے، تو آپ کو اسے ادا کرنا پڑے گا اور اگر کمپنیوں نے آپ کا اضافی TDS کاٹ لیا ہے تو آپ کو ریفنڈ مل جائے گا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: