ہوم » نیوز » معیشت

لکشمی ولاس بینک کے گاہکوں کو بڑا جھٹکا، 16دسمبر تک نکال پائیں گے زیادہ سے زیادہ 25،000 روپئے

وزارت خزانہ کے مطابق حالانکہ کچھ خاص شرائط جیسے علاج، اعلی تعلیم کے لئے فیس جمع کرنے اور شادی وغیرہ کے لئے اکاونٹ ہولڈر ریزر و بینک کی اجازت سے 25ہزار روپے سے زیادہ بھی نکال سکیں گے۔ ریزر و بینک کی سفارش پر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

  • Share this:
لکشمی ولاس بینک کے گاہکوں کو بڑا جھٹکا، 16دسمبر تک نکال پائیں گے زیادہ سے زیادہ 25،000 روپئے
لکشمی ولاس بینک میں گاہکوں کے لئے یومیہ نکاسی کی حد نافذ

نئی دہلی۔ مرکزی حکومت نے تمل ناڈو کے نجی شعبہ کے لکشمی ولاس بینک میں بدھ کو اکاونٹ ہولڈروں کے لئے یومیہ پچیس ہزار روپے نکاسی کی حد طے کی ہے۔ نکاسی کی یہ حد آج شام چھ بجے سے موثر ہوگئی ہے اور ایک مہینہ تک یا 16دسمبر تک لگائی گئی ہے۔ اس مدت میں بینک کے صارف روزانہ زیادہ سے زیادہ 25 ہزار روپئے ہی نکال سکیں گے۔ وزارت خزانہ نے آج ایک بیان میں یہ اطلاع دی۔


وزارت خزانہ کے مطابق حالانکہ کچھ خاص شرائط جیسے علاج، اعلی تعلیم کے لئے فیس جمع کرنے اور شادی وغیرہ کے لئے اکاونٹ ہولڈر ریزر و بینک کی اجازت سے 25ہزار روپے سے زیادہ بھی نکال سکیں گے۔ ریزر و بینک کی سفارش پر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔



وزارت خزانہ (Ministry of Finance) نے بتایا کہ لکشمی ولاس بینک کو بی آر ایکٹ (BR Act) کی دفعہ -45 کے تحت ریزرو بینک آف انڈیا کی طرف سے دی گئی درخواست کی بنیاد پر موریٹوریم (Moratorium) کے تحت رکھا گیا ہے۔ موریٹوریم نافذ رہنے تک بینک گاہک کو 25 ہزار روپئے سے زیادہ کی ادائیگی نہیں کر سکتا ہے۔ اس سے زیادہ کی ادائیگی کے لئے بینک کو ریزرو بینک سے اجازت لینی ہو گی۔ ساتھ ہی مرکزی بینک کے تحریری آرڈر پر لکشمی ولاس بینک متعینہ حد سے زیادہ کی ادائیگی کر سکتا ہے۔

بتا دیں کہ سال 2019 میں لکشمی ولاس بینک کے لئے مشکلیں شروع ہو گئی تھیں۔ تب ریزرو بینک نے لکشمی ولاس بینک کی طرف سے پیش کئے گئے انڈیا بلس ہاوسنگ فائنانس کے ساتھ انضمام کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ ستمبر 2020 میں شیئر ہولڈرس کی طرف سے سات ڈائریکٹرز کے خلاف ووٹنگ کے بعد ریزرو بینک نے نقدی بحران سے جوجھ رہے پرائیویٹ بینک کو چلانے کے لئے میتا ماکھن کی قیادت میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 17, 2020 09:21 PM IST