உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Instant loan mobile apps: لون ایپس کرسکتے ہیں آپ کی زندگی کو برباد! جانیے کیسے؟

    عام شہری متاثر نہ ہو اور وہ کسی بھی دھوکے سے محفوظ رہے۔

    عام شہری متاثر نہ ہو اور وہ کسی بھی دھوکے سے محفوظ رہے۔

    میوریش کنی نے کہا کہ اگر چہ کہ قرض ہر جگہ سے فراہم کیے جاتے ہیں، لیکن اس کی ادائیگی خود ہی کرنی پڑتی ہے۔ قرض وصول کرنا والا یہ دیکھے کہ وہ کب قرض کو واپس کرسکتا ہے۔ Instant loan mobile apps

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Hyderabad | Jammu | Delhi | Karnal
    • Share this:
      Instant loan mobile apps: بنگلور میں مقیم ایک شخص نندا کمار (Nanda Kumar) کی خودکشی کے بارے میں ایک حالیہ اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نے کم از کم 40 فوری قرض موبائل ایپس سے قرض حاصل کیا تھا اور اس کی واپسی میں ناکامی کی وجہ سے ریکوری ایجنٹ اس کے پیچھے کرنے لگے۔ ان کی طرف سے ہراساں کیے جانے کے بعد کمار نے سخت قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا اور اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا اور اس نے خود کشی کرلی۔

      یہ صرف کمار کی کہانی نہیں ہے۔ ایسے کئی لوگ ہیں، جنھوں نے قرض کی عدم ادائیگی کی بنا پر خود کشی کرلی ہے۔ یہ انتہائی شرمندگی کا باعث بنتا ہے جس کی وضاحت کرنا مشکل ہے، اس لیے کہ اس وضاحت سے خود ہی یہ ظاہر ہو جائے گا کہ وہ شخص کس حد تک قرض کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (National Crime Records Bureau) کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا کی زد میں آنے کے بعد سے خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ان میں سے تقریباً 25,200 کی وجہ ملازمت سے محرومی اور قرض میں ڈوبے ہونا ہے۔

      کہانی ہر بار ایک جیسی ہی دہرائی جاتی ہے۔ لون ایپس کے ذریعہ کم قیمت کے قرضے فراہم کیے جاتے ہیں، جو بہت سے انفرادی قرض دہندگان مختلف ایپ پر مبنی قرض دہندگان سے کئی بار لیتے ہیں۔ تاہم اگر قرض لینے والے نے ابھی اپنی ملازمت کھو دی ہے یا بروقت تنخواہ نہیں مل رہی ہے، تو اسے کافی مشکلات ہوسکتی ہے۔ مساوی ماہانہ اقساط (EMI) میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہ سب لون ریکوری کی طرف لے جاتا ہے جو نہ صرف آپ بلکہ آپ کے دوستوں اور خاندان والوں کے بعد بھی خطرنا ہوسکتا ہے۔

      ریزور بینک آف انڈیا (RBI) نے حال ہی میں ڈیجیٹل قرضے پر ایک ورکنگ گروپ کی سفارشات شائع کی ہیں جو گاہک کے تحفظ اور طرز عمل کے مسائل کے بارے میں رہنما خطوط مرتب کرتی ہے۔ لہذا ریگولیٹر قرض دہندگان کی طرف سے قرض کے جال اور بدانتظامی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ تاکہ اس سے عام شہری متاثر نہ ہو اور وہ کسی بھی دھوکے سے محفوظ رہے۔

      پے یو فائنانس (PayU Finance) کے چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) میوریش کنی کا کہنا ہے کہ ہم تجزیات کا استعمال صارفین کے پس منظر کو سمجھنے اور ان کے خریداری کے رویے کے بارے میں بصیرت حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں تاکہ ان کے اخراجات کی حد کا تعین کیا جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ انھوں نے ضرورت سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔ ہم سمجھداری سے قرض دینے میں یقین رکھتے ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ صارف کے لیے قرض کی ذمہ داری اس کی ادائیگی کی صلاحیت کے اندر ہو۔ یہ ہمارے مضبوط انڈر رائٹنگ سسٹم کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      میوریش کنی نے کہا کہ اگر چہ کہ قرض ہر جگہ سے فراہم کیے جاتے ہیں، لیکن اس کی ادائیگی خود ہی کرنی پڑتی ہے۔ قرض وصول کرنا والا یہ دیکھے کہ وہ کب قرض کو واپس کرسکتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: