ہوم » نیوز » معیشت

رسوئی گیس کو لے کر بہت جلد بڑا اعلان کرسکتی ہیں تیل کمپنیاں! ، اب تک اتنا روپے ہوچکا ہے مہنگا

دسمبر مہینے میں ایل پی جی سلینڈر (LPG Cylinder) کے دام میں دو مرتبہ اضافہ ہوچکا ہے ۔ اس مہینے اب تک غیر سبسڈی والے سلینڈر میں 100 روپے تک کا اضافہ ہوچکا ہے ۔ بہت جلد ایل پی جی گیس کے دام کم وقفہ سے مقرر کئے جاسکتے ہیں ۔

  • Share this:
رسوئی گیس کو لے کر بہت جلد بڑا اعلان کرسکتی ہیں تیل کمپنیاں! ، اب تک اتنا روپے ہوچکا ہے مہنگا
رسوئی گیس کو لے کر بہت جلد بڑا اعلان کرسکتی ہیں تیل کمپنیاں! ، اب تک اتنا روپے ہوچکا ہے مہنگا

نیا سال شروع ہونے میں اب کچھ ہی دن باقی رہ گئے ہیں ۔ سال 2021 کی آمد کے ساتھ ہی ہم سب کی زندگی میں کئی تبدیلی بھی آنے جارہی ہیں  ۔ ان میں سے کچھ تبدیلیاں ایسی بھی ہیں ، جن کا براہ راست اثر روز مرہ کی زندگی پر پڑنے والا ہے ۔ تقریبا ہم سبھی کے کچن میں استعمال ہونے والا ایل پی جی سلینڈر کو لے کر بھی کچھ خاص تبدیلیاں ہوسکتی ہیں ۔ امکان ہے کہ بہت جلد اب ایل پی جی سلینڈر کے دام بھی ہفتہ وار تبدیل کئے جائیں ۔ دسمبر میں ایل پی جی کے دام میں کل 100 روپے تک کا اضافہ ہوا ہے ۔


دسمبر مہینے میں ایل پی جی کی قیمتوں میں دو مرتبہ تبدیلی کی گئی ہے ۔ پہلی مرتبہ یکم دسمبر کو اور دوسری مرتبہ 15 دسمبر کو ۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں کہا جارہا ہے کہ کمپنیاں اب ایل پی جی سلینڈر کے دام میں ہفتہ وار طور پر تبدیلی کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے ۔


بتادیں کہ اب تک پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یومیہ ہونے والی تبدیلی کی صارفین کو عادت ہوگئی ہے ۔ ایسے میں پہلے کے مقابلہ میں کم مدت میں ایل پی جی کی قیمتوں میں تبدیلی کئے جانے سے بھی انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی ۔ حالانکہ یہ بھی دھیان دینے والی بات ہے کہ ابھی تک اس سلسلہ میں کوئی بھی آفیشیل جانکاری سامنے نہیں آئی ہے ۔


ایل پی جی سلینڈر کے دام کو کم مدت میں تبدیل کرنے کی وجہ بھی پٹرول اور ڈیزل کے داموں میں یومیہ تبدیلی کرنے جیسی ہی ہے ۔ تیل کمپنیاں ہر روز صبح چھ بجے پٹرول اور ڈیزل کے دام طے کرتی ہیں ۔ دراصل عالمی بازار میں پٹرولیم کے دام یومیہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ تیل کمپنیاں اب گیس سلینڈر کے دام میں بھی یومیہ کی بنیاد پر تبدیلی کرنے پر غور کررہی ہے ۔ ایسا کرنے سے ان کمپنیوں کو اوسطا قیمت طے کرنے میں مدد ملے گی اور وہ بھاری بھرکم نقصان اٹھانے سے بچ سکیں گی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 26, 2020 11:44 PM IST