ہوم » نیوز » معیشت

Mandatory Hallmarking Of Jewellery:آج سے سونے کی ہال مارکنگ لازمی،آپ کے گھرمیں موجودسونے کا کیا کریں؟

زیورات کے تاجروں کو درپیش پریشانیوں کی روشنی میں CAIT کے قومی صدر بی سی بھرٹیا اور سکریٹری جنرل شری پروین کھنڈیل وال (Shri Praveen Khandelwal ) نے مرحلہ وار ملک میں ہال مارکنگ کے نفاذ کا خیرمقدم کیا۔

  • Share this:
Mandatory Hallmarking Of Jewellery:آج سے سونے کی ہال مارکنگ لازمی،آپ کے گھرمیں موجودسونے کا کیا کریں؟
آج سے سونے کی ہال مارکنگ لازمی

سونے کے زیورات اور نوادرات کی لازمی ہال مارکنگ (Mandatory hallmarking of gold jewellery and artefacts) آج یعنی 16 جون 2021 سے مرحلہ وارطورپرنافذ ہوگئی ہے، جس کی شروعات ہندوستان بھر کے 256 اضلاع میں ہوگی۔


یہ فیصلہ صارفین کے امور کے وزیر پیوش گوئل (Piyush Goel) کی زیرصدارت انڈسٹری اسٹیک ہولڈرز کے اجلاس میں کیا گیا۔ اس اجلاس میں کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز (Confederation of All India Traders ) اور آل انڈیا جیولرز اینڈ گولڈسمتھ فیڈریشن (All India Jewellers & Goldsmith Federation) کے نمائندے بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ آل انڈیا جیولرز اینڈ گولڈسمتھ فیڈریشن (All India Jewellers & Goldsmith Federation) ملک میں چھوٹے جواہرات کی سب سے بڑی تنظیم ہے۔


لازمی سونے کی ہال مارکنگ کا پہلا مرحلہ 256 اضلاع میں لاگو کیاجارہاہے جہاں ہال مارکنگ مراکز پہلے سے موجود ہیں۔ 16 جون سے ان اضلاع میں زیورات کو صرف 14 ، 18 اور 22 قیراط (carats) سونے کے زیورات فروخت کرنے کی اجازت ہوگی۔ ہال مارکنگ کے لئے اضافی 20 ، 23 اور 24 قیراط سونے کی بھی اجازت ہوگی۔



حکومت نے زیورات کے تاجروں کے پاس پڑے پرانے اسٹاک پر ہال مارکنگ حاصل کرنے کے لئے یکم ستمبر کی آخری تاریخ طے کی ہے۔ اس دو ماہ  کے دوران کسی تاجر کے خلاف نہ تو کوئی جرمانہ عائد کیا جائے گا اور نہ ہی کوئی زبردستی کارروائی کی جائے گی۔ آپ بھی اپنا سونا زیوارات کے تاجرین کو فروخت کرسکتے ہیں

اسٹیک ہولڈرز سے وسیع مشاورت کے بعد حکومت نے زیورات کے شعبے میں مخصوص کھلاڑیوں کے لئے سونے کی لازمی ہال مارکنگ میں نرمی کردی۔ 40 لاکھ روپے تک کا سالانہ کاروبار کرنے والے جیولرز کو لازمی ہالمارکنگ سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔ کندن اور پولکی جیولری، گھڑیاں اور فاؤنٹین پین کو ہال مارک کے دائرے سے دور رکھا گیا ہے۔


حکومت کی تجارتی پالیسی کے مطابق زیورات برآمد اور دوبارہ درآمد کرنے والوں بین الاقوامی نمائشوں کے ساتھ ساتھ حکومت سے منظور شدہ بی ٹو بی گھریلو نمائشوں کے لئے زیورات برآمد کرنے اور ان کو بھی چھوٹ دی گئی ہے۔

زیورات کے تاجروں کو درپیش پریشانیوں کی روشنی میں CAIT کے قومی صدر بی سی بھرٹیا اور سکریٹری جنرل شری پروین کھنڈیل وال (Shri Praveen Khandelwal ) نے مرحلہ وار ملک میں ہال مارکنگ کے نفاذ کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’’پیوش گوئل کے اس فیصلے سے ہندوستان کی سونے کی منڈی کی ساکھ بین الاقوامی سطح پر بڑھ جائے گی اور دوسری طرف ملک کے صارف کو بھی سامان کی خریداری پر پورا اعتماد ہوگا۔یادرہے کہ نومبر 2019 میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ 15 جنوری 2021 سے سونے کے زیورات اور نوادرات کی ہالمارکنگ کو پورے ملک میں لازمی کردیا جائے گا۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jun 16, 2021 09:06 PM IST