உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مفت سہولیات کی اسکیمات سے کئی ریاستوں پر بھاری مالیاتی دباؤ، اقتصادی حالت ہورہی ہے خراب، SBI ایکوریپ کی رپورٹ میں خلاصہ

    ہندوستان کی کئی ریاستیں مالی بحران کا ہوسکتی ہیں شکار!

    ہندوستان کی کئی ریاستیں مالی بحران کا ہوسکتی ہیں شکار!

    ان میں سے چھ ریاستوں کا مالیاتی خسارہ ان کے جی ایس ڈی پی کے چار فیصد سے تجاوز کر گیا ہے۔ تاہم، 11 ریاستیں اپنے مالیاتی خسارے کو 4 فیصد سے نیچے رکھنے میں کامیاب دکھائی دیتی ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ’آمدنی اٹھننی خرچہ روپیہ‘کے محاورے اب کئی ریاستوں پر بالکل فٹ بیٹھنے لگے ہیں۔ خاص طور پر جب سیاسی فائدے کے لیے مفت تحفے اور مفت سہولیات دینے کی اسکیمیں بڑھنے لگیں۔ ایس بی آئی ایکوریپ کی رپورٹ میں اس کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی ریاستیں قرض معافی، پرانی پنشن اسکیم اور دیگر کئی مفت اسکیموں کے اعلانات کررہی ہیں، جو ریاستوں کے لیے مالی طور پر قابل عمل نہیں ہیں اور ان کی مالی حالت مزید خراب ہوسکتی ہے۔ ان ریاستوں کو سمجھداری اور منطقی طور پر خرچ کرنا چاہئے کیونکہ یہ ریاستیں مفت اسکیم چلانے میں اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کر رہی ہیں۔

      کمائی سے زیادہ خرچ کررہی ہیں ریاستی حکومتیں
      مثال کے طور پر Ecowrap رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تلنگانہ اپنی آمدنی کا 35 فیصد مفت اور عوامی اسکیموں پر خرچ کرتا ہے۔ راجستھان، چھتیس گڑھ، آندھرا پردیش، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، کیرالہ جیسی ریاستیں اپنی آمدنی کا 5-19 فیصد مفت اسکیموں پر خرچ کرتی ہیں۔ چھتیس گڑھ نے حال ہی میں پرانی پنشن اسکیم کو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صرف ٹیکس سے ہونے والی آمدنی کی بات کریں تو یہ ریاستیں ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 63 فیصد تک مفت اسکیموں پر خرچ کرتی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      17 مہینوں کی انتہا پر مہنگائی، مارچ میں ریٹیل مہنگائی شرح 6.95 فیصد رہی

      رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال 2021-22 میں کورونا وبا کی وجہ سے 18 ریاستوں کا اوسط مالیاتی خسارہ ابتدائی بجٹ تخمینہ سے 50 بیسس پوائنٹس بڑھ کر مجموعی گھریلو پیداوار (GSDP) کے چار فیصد کے قریب پہنچ گیا ہے۔ ریاستوں کے ان میں سے چھ ریاستوں کا مالیاتی خسارہ ان کے جی ایس ڈی پی کے چار فیصد سے تجاوز کر گیا ہے۔ تاہم، 11 ریاستیں اپنے مالیاتی خسارے کو 4 فیصد سے نیچے رکھنے میں کامیاب دکھائی دیتی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      کیا سال 2022 میں مکمل طور پر دفتر واپسی ہوگی؟ بڑے پیمانے پر ملازمتوں کا امکان: TATA Realty

      مالی سال 2021-22 میں GSDP کے چار فیصد سے زیادہ سرکاری خزانہ کو نقصان والی ریاستیں

      ریاستیں-- سرکاری خسارہ
      بہار - 11.3فیصد

      آسام - 8.5 فیصد

      راجستھان - 5.2فیصد

      کیرالہ - 4.2فیصد

      مدھیہ پردیش - 4.2 فیصد

      ہماچل پردیش - 4.1 فیصد

      (ماخذ: SBI Ecowrap)
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: