وزیر خزانہ کا بڑا اعلان ، ہاوسنگ پروجیکٹ کیلئے حکومت دے گی 10 ہزار کروڑ روپے

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ اقتصادی نظام کو رفتار دینےکے لئے کئی بڑے قدم اٹھائے گئے ہیں اور اسے نافذ کرنے کاکام شروع ہوسکا ہے ۔

Sep 14, 2019 05:45 PM IST | Updated on: Sep 14, 2019 05:47 PM IST
وزیر خزانہ کا بڑا اعلان ، ہاوسنگ پروجیکٹ کیلئے حکومت دے گی 10 ہزار کروڑ روپے

وزیر خزانہ کا بڑا اعلان ، ہاوسنگ پروجیکٹ کیلئے حکومت دے گی 10 ہزار کروڑ روپے

ہندوستانی اقتصادی نظام پر پڑنے والے بین الاقوامی کساد بازاری کے اثر سے نمٹنے کے لئے حکومت نے آج برآمداتی اور تعمیراتی سیکٹر کو بڑا پیکیج دیتے ہوئے برآمدکاروں کو راحت دینے کے لئے 50 ہزار کروڑ روپے کی چھوٹ دینے اور رہائشی سیکٹر کے لئے تقریباً 20 ہزار کروڑ روپے کا فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی نظام کو رفتار دینےکے لئے کئی بڑے قدم اٹھائے گئے ہیں اور اسے نافذ کرنے کاکام شروع ہوسکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات کو فروغ دینےکے لئےغیر ملکی تجارت پالیسی2015۔20 میں معلنہ ’مارکیٹ پر مبنی برآمدات چھوٹ منصوبہ‘ (ایم آئی آئی ایس) کو واپس لے لیا گیا ہے اور اس کی جگہ پر نیا منصوبہ ریمیشن آف ڈیوٹیز ٹیکسٹس آن اکسپورٹ پروڈکٹ '(روڈ ٹیپ)) لاگو ہوگا۔

Loading...

انہوں نے کہا کہ ایم آئی آئی ایس اور دیگر منصوبوں سے فائدہ برآمد کاروں کو اس سال 31 دسمبر تک ملتا رہے گا۔ اگلے سال یکم جنوری سے نیا منصوبہ لاگو ہوجائے گا ۔ نئے منصوبے میں دو فیصد تک کی چھوٹ کپڑا اور دست کاری کے علاوہ دیگر برآمداتی اشیاء پر ملے گی ۔ اس سے حکومت پر 50 ہزار کروڑ روپے کا بوجھ پڑنے کا اندازہ ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ کفایتی اور درمیانی کلاس کے مکانوں کی تعمیر کو بڑاھاوا دینے کے لئے حکومت پابند عہد ہے ۔ اس سیکٹر کے لئے ایک خاص انتظام فراہم کیا جائے گا ۔ حکومت کی توجہ ادھورے تعمیراتی منصوبوں کو مکمل کرانے پر ہے۔ اس کے لئے حکومت 10 ہزار کروڑ روپے کا ایک فنڈ قائم کرے گی جس میں اتنی ہی رقم نجی شعبے سے مہیا کی جائے گی ۔ اس طرح سے فنڈ میں 20 ہزار کروڑ روپے کی رقم کی فراہمی ہو گی۔

وزیر خزانہ سیتارمن نے کہا کہ برآمداتی عمل میں تیزی لانے کے لئے رقم کی واپسی کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جارہا ہے اور اسے اسی ماہ کے آخر میں لاگو کیا جائے گا۔ بینک برآمد کنندگان کو زیادہ سے زیادہ کاروباری سرمایہ فراہم کریں گے ، جس کی حکومت انشورنس کرے گی۔ اس سے حکومت پر سالانہ 1700 کروڑ روپئے کا بوجھ پڑے گا۔ پرائمری سیکٹر کے لئے برآمداتی قرض کے رہنما اصولوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس سے اس سیکٹر کو 36 ہزار کروڑ روپے سے لے کر 68 ہزار کروڑ روپئے تک اضافی طور پر میسر ہوں گے ۔ برآمدات کے لئے سرمایہ کی صورت حال پر نگرانی کے لئے بین وزارتی گروپ تشکیل دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر برآمداتی دوست ٹیکنالوجی نصب کی جائے گی جس سے وقت اور رقم کی بچت ہوگی۔ عالمی معیارات طے کرنے کے لئے ٹیکنالوجی پر زور دیا جائے گا۔ یہ کام دسمبر 2019 تک مکمل ہوجائے گا۔  مختلف ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے ، ایک ایف ٹی اے کارآمد مشن قائم کرے گا۔ یہ گروپ انڈین ایکسپورٹ فیڈریشن کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور تاجروں کو مختلف ممالک میں ہندوستانی مصنوعات کے فوائد سے آگاہ کرے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بازار کو فروغ دینے کے لئے ، چرم ، کپڑا ، یوگا ، سیاحت اور ٹیکنالوجی پر مارچ 2020 میں چار مقامات پر میگا شاپنگ فیسٹیول منعقد کئے جائیں گے۔ اس سے تاجروں کو آپسی رابطہ کا موقع ملے گا۔  انہوں نے کہا کہ کاریگروں کو ای کامرس سے جوڑنے کے لئے حکومت خصوصی مہم چلائے گی۔ اس کے لئے کاریگروں کو رجسٹرڈ کیا جائے گا ۔

Loading...