جیون سمواد: سکون کی تلاش اور ای ایم آئی!۔

ہندوستان کا معاشرہ مشترکہ خاندان سے اتنی زیادہ دوری پر نہیں تھا۔ معاشرے میں ایک دوسرے سے تعلق رکھنے اور اپناپن کا گہرا احساس تھا۔ ہمارے پاس یقینی طور پر اپنی حیثیت کے مطابق فنڈز تھے۔ ہم پہلے بچت کرتے تھے اور پھر خرچ کرتے تھے۔

Aug 05, 2019 02:06 PM IST | Updated on: Aug 05, 2019 02:07 PM IST
جیون سمواد: سکون کی تلاش اور ای ایم آئی!۔

اس وقت آپ کو معیشت کے اتار چڑھاؤ کے بارے میں کئی معلومات مل رہی ہیں۔ ان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی گزارش ہے۔ امریکہ اور یوروپ سے ہوتے ہوئے بازاروں میں گراوٹ ہندوستان کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس سے تقریبا ایک دہائی پہلے بھی ہم اسی طرح کی صورت حال میں تھے۔ معاشرتی اور معاشی طور پر ہندوستان بہت ہی کم نقصان کے ساتھ اس کساد بازاری سے باہر نکل آیا تھا۔ اس کی دو بڑی وجوہات تھیں۔

پہلا، ہندوستان کا معاشرہ مشترکہ خاندان سے اتنی زیادہ دوری پر نہیں تھا۔ معاشرے میں ایک دوسرے سے تعلق رکھنے اور اپناپن کا گہرا احساس تھا۔ ہمارے پاس یقینی طور پر اپنی حیثیت کے مطابق فنڈز تھے۔ ہم پہلے بچت کرتے تھے اور پھر خرچ کرتے تھے۔

Loading...

دوسرا، کریڈٹ کارڈ ہماری زندگی سے بہت دور تھا۔ ہم اس کے اتنے قریب نہیں تھے۔ اس وقت جوتے سے لے کر رومال تک ہر چیز نقد رقم سے خریدی جارہی تھی۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہوتا تو یہ خواہش کچھ دیر کے لئے ملتوی کردی جاتی۔ آج ہم ان دونوں ہی چیزوں سے بہت آگے آچکے ہیں۔ پہلے بچت نہیں کرتے، خرچ کرتے ہیں۔ اس کے بعد غلطی سے اگر کچھ بچ گیا تو وہ بچت میں شمار ہوتا ہے۔ ہر خواہش کو ہم پیدا ہوتے ہی اسے پورا کرنا چاہتے ہیں۔

مدھیہ پردیش کے جبل پور سے تعلق رکھنے والی ندھی یادو لکھتی ہیں ، "ہم شوہر اور بیوی ایک نجی کمپنی میں کام کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہم نے ایک فلیٹ لیا ، جو بجٹ سے قدرے زیادہ تھا۔ اس کے بعد بڑوں کے سمجھانے کے بعد بھی ہم نے پرسنل لون لے کر اس میں ’ اپنے حساب سے‘ کام کروایا۔ دوستوں کے دباؤ میں ایک دعوت بھی دی۔ دعوت کی استطاعت ختم ہوگئی تھی، لیکن لوگ کیا کہیں گے ، ہم اس کا سامنا کرنے کو تیار نہیں تھے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی ٹوکتا رہتا اور ہمیں اچھا نہیں لگتا۔ اس لئے ہم نے ایک دوست سے 50 ہزار روپئے قرض لے کر دعوت دی۔

ہمارا خیال تھا کہ اس سال اپریل میں تنخواہ میں اضافہ ہوگا۔ دونوں مل کر پرسنل لون اور دعوت کے لئے لی گئی قرض کی رقم واپس لوٹا دیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اوپر سے دوست کی نوکری بھی چلی گئی۔ جب اس نے رقم واپس کرنے پر اصرار کیا تو ہم نے ایک بار پھر پرسنل لون لے کر کسی طرح اس کے پیسے لوٹائے۔

کمپنی کی پوزیشن بھی اچھی نہیں دکھ رہی ہے۔ اب کیا کریں کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔ ہم دونوں ایک ہی کمپنی میں ہیں، یہ ممکن ہے کہ کسی ایک کی نوکری چلی جائے۔ اب  مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے ، بچت بالکل صفر ہے۔ فلیٹ بیچنے کا بھی آپشن موجود ہے۔ لیکن ایک بار پھر سماجی اعتبار سے تنقید کا ڈر ہمیں ایسا کرنے سے روک رہا ہے‘‘۔

ندھی کو سب سے پہلے وہ کرنا چاہئے تھا جس سے ان کی اقتصادی پریشانیاں کم ہو سکتی ہیں۔ اگر فلیٹ کی صحیح قیمت سے کچھ کم قیمت بھی مل رہی ہے تو فورا اسے بیچ کر بحران سے باہر نکل جانا چاہئے۔ اخراجات میں تخفیف اور بچت پر توجہ دینی چاہئے۔ کیونکہ جیسا کہ انہوں نے بتایا کہ کسی ایک کی نوکری کبھی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

حال کو محفوظ رکھیں۔ زندگی ایک لامحدود امکان ہے۔ اس کے تئیں وفادار بنیں۔ لوگ کیا کہتے ہیں، اس پر سوچنے کی بجائے اپنے حساب سے سوچیں۔ ایسے مکان آگے چل کر کئی لئے جا سکتے ہیں۔ لیکن آج ضرورت اس بات کی ہونی چاہئے کہ خود کو تناؤ ، افسردگی اور شدید مالی بحران سے بچایا جائے۔

یہ ندھی کا سوال ہونے کے ساتھ ہی گہرے معاشرتی بحران کی علامت بھی ہے۔ آپ کو اپنے سکون کی ایک نئے انداز میں تعریف کرنے کی ضرورت ہے۔ سنگین معاشی حالات شروع ہوچکے ہیں۔ جتنا ممکن ہو، کریڈٹ کارڈ اور پرسنل لون سے دور رہیں۔ ضرورت اور 'کسی بھی خواہش کی شدت' کے درمیان صحیح فاصلہ ضروری ہے۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

 

Loading...