உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بار بار بینک کی برانچ جانے کے باوجود اگر نہیں مل رہی ہے پاس بُک تو کیا کریں؟ SBI نے دی پوری جانکاری

    SBI پاس بُک کے لئے کریں یہ کام۔

    SBI پاس بُک کے لئے کریں یہ کام۔

    برانچ میں بینک کا پاس بک لینے جاو تو بار بار بولا جاتا ہے کہ کل آؤ۔ ساتھ ہی پاس بک دینے کا وقت بھی 11 سے 12 بجے کے درمیان بتاکر واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ ایسے میں کس طرح پاس بک ملے گا؟

    • Share this:
      نئی دہلی: آج کے وقت میں گاہک زیادہ تر کام آن لائن ہی کررہے ہیں، جس کے تحت تمام بینک اپنے کسٹمرس کو کئی سہولت دے رہے ہیں۔ ایسے میں کسٹمرس گھر بیٹھے آرام سے بینک کی ڈیٹیل، ٹرانزکشن کی جانکاری سمیت باقی سبھی چیزیں ایک کلک پر چیک کرسکتے ہیں۔ ساتھ ہی ڈوراسٹیپ سروس بھی الگ الگ بینکوں کی جانب سے اپنے کسٹمرس کو دی جارہی ہے۔

      سبھی چیزیں بے شک ایک کلک پر آپ کے ہاتھوں میں کیوں نہ ہو، لیکن بینک کی کچھ جانکاریاں اکثر لوگ کوشش کرتے ہیں، آپ کے پاس رہے آف لائن طریقے سے بھی۔ اب ذرا سوچیے، آج کے دور میں آپ آن لائن پاس بک فوری چیک کرسکتے ہیں، لیکن ایسے میں کئی فیملیز ہیں، یا بزرگ لوگ ہیں، جنہیں ان چیزوں کی زیادہ جانکاری نہیں ہوتی، ایسے میں ضروری ہے کہ پاس بک بھی آپ کے پاس رہے، جو کہ اپ ڈیٹیڈ ہو۔ کام کو کیسے آسان کیا جائے بینک بتاتا رہتا ہے۔ لیکن اگر بینک برانچ میں بار بار جانے کے بعد بھی آپ کو پاس بک نہ ملے، تو پریشانی ہونا لازمی ہے۔



      کسٹمر نے ایس بی آئی سے کیا سوال
      حال ہی میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ایک کسٹمر نے ایس بی آئی سے سوال کیا ہے۔ ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ، برانچ میں بینک کا پاس بک لینے جاو تو بار بار بولا جاتا ہے کہ کل آؤ۔ ساتھ ہی پاس بک دینے کا وقت بھی 11 سے 12 بجے کے درمیان بتاکر واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ ایسے میں کس طرح پاس بک ملے گا؟ جس پر ایس بی آئی نے گاہک کو کیا کرنا چاہیے، اس سوال کا جواب بتایا ہے۔

      ایس بی آئی نے ٹوئٹ کرکے دی جانکاری
      اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاونٹ سے کسٹمر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ، آپ ہمیں ڈی ایم کے ذریعے سے اپنے رجسٹرڈ کانٹیکٹ نمبر اور برانچ کا نام/کوڈ شیئر کریں۔ اس سے ہم اس معاملے میں آپ کی مدد کریں گے۔ حالانہ، اگر کسی بھی گاہک کو اس سے جڑی کوئی بھی پریشانی ہے تو وہ بھی ٹوئٹر کے ذریعے ایس بی آئی سے پوچھ سکتے ہیں یا پھر ڈائریکٹ بھی رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔

      دراصل اسٹیٹ بینک آف انڈیا پچھلے طویل عرصے سے اپنے کسٹمرس کی پریشانیوں کا حل کررہا ہے، اور لگاتار کوشش کی جاتی ہے کہ سبھی گاہکوں کے سوالوں کے جواب اُنہیں دئیے جائیں۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: