உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملک میں ہول سیل مہنگائی 12 سال کے ریکارڈ سطح پر پہنچی! جانیے کیا ہے وجہ اور کب ملے گی راحت؟

    نومبر میں ہول سیل مہنگائی ریٹ  (Wholesale Price Index – WPI) 12.54 فیصد سے بڑھ کر 14.2 فیصدی ہوگئی ہے۔

    نومبر میں ہول سیل مہنگائی ریٹ (Wholesale Price Index – WPI) 12.54 فیصد سے بڑھ کر 14.2 فیصدی ہوگئی ہے۔

    ہول سیل مہنگائی کے یہ اعدادوشمار 12 سال کے ریکارڈ لیول پر پہنچ گئے ہیں۔ بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے ہول سیل مہنگائی میں بھی اضافہ درج کیا گیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: November WPI Inflation Data: ملک میں مہنگائی دن بہ دن بڑھتی ہی جارہی ہے۔ نومبر میں ہول سیل مہنگائی کی سطح (Wholesale Price Index – WPI) 12.54 فیصد سے بڑھ کر 14.2 فیصد ہوگئی ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرس کے مطابق، ہول سیل مہنگائی کے یہ اعدادوشمار 12 سال کے ریکارڈ لیول پر پہنچ گئے ہیں۔ بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے ہول سیل مہنگائی میں بھی اضافہ درج کیا گیا ہے۔ بنیادی افراط زر کی شرط (core inflation rate) 11.90 فیصد سے بڑھ کر 12.20 فیصد اور ستمبر میں انفلیشن ریٹ کے اعدادوشمار میں ترمیم کی گئی ہے۔ اب یہ 10.66 فیصدی سے بڑھ کر 11.80 فیصد ہوگئی ہے۔

      نومبر مہینے کی تھوک مہنگائی پر نظر ڈالیں تو اسی مدت میں کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں اکتوبر کے مہینے کے 3.06 فیصد سے بڑھ کر 6.70 فیصدی پر آگئی ہیں۔ وہیں مینوفیکچرنگ پروڈکٹس کی ہول سیل مہنگائی شرح اکتوبر مہینے کے 12.04 فیصد سے گھٹ کر 11.92 فیصدی پر آگئی ہے۔

      افراط زر میں ایندھن اور بجلی نے لگائی آگ!
      وزارت تجارت اور صنعت کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق، اونچی افراط زر (Inflation)میں ایندھن اور بجلی کا سب سے بڑا تعاون رہا ہے، کیونکہ ان کی قیمت نومبر، 2020 کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد بڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر چیزوں کی قیمتیں اور ایندھن کی قیمتیں بھی بہت زیادہ رہی ہیں۔ عہدیدار نے کہا ہے کہ بنیادی اشیاء اور مینوفیکچرنگ مصنوعات میں افراط زر کم بنیاد کے اثر کے باوجود بمشکل دوہرے ہندسوں کو چھو سکا ہے۔

      ریٹیل مہنگائی میں بھی ہوا اضافہ
      اس سے پہلے پیر کو قومی شماریات کے دفتر (NSO)نے ریٹیل مہنگائی کے اعدادوشمار جاری کیے تھے۔ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI)کی جانب سے طئے کی گئی ہندوستان کی ریٹیل افراط زر نومبر 2021 کے مہینے میں 4.91 فیصد درج کی گئی، جو اکتوبر میں 4.48 فیصد تھی۔ جب کہ ایک سال پہلے کی مدت میں یہ 6.93 فیصد تھی۔ نومبر میں ریٹیلہ افراط زر کے اعدادوشمار میں اضافہ کی اہم وجہ پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

      کب ملے گی راحت؟
      ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کے گورنر شکتی کانت داس نے اپنے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ مہنگائی کی سطح (Inflation rate)میں تیزی بنی ہوئی رہ سکتی ہے۔ کیونکہ بیس ایئر ایفکیٹ کی وجہ سے اعدادوشمار میں تیزی رہے گی۔ ریزرو بینک کے مابق، ہیڈلائن مہنگائی ریٹ رواں مالی سال کی چوتھی سہ ماہی میں اونچی سطح پر رہے گی۔ اُس کے بعد اس میں نرمی آئے گی۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: