ہوم » نیوز » عالمی منظر

پاکستان کی غیرمستحکم معیشت،عمران خان کےدورحکومت میں قرض کےتناسب میں107فیصدکاتشویشناک اضافہ

پاکستانی معیشت مسلسل غیر مستحکم ہوتی جارہی ہے۔ جس کا اثر اس ملک کے عوام پر بھی پڑے گا۔ عمران خان (Imran Khan) کے دور حکومت (2018 کے بعد) میں روزانہ اضافی یومیہ قرضہ حیرت انگیز طور پر 18 بلین روپے تک جا پہنچا ہے۔ عالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ۔19) کے دوران تو پاکستان مزید معاشی مندی کا شکار ہوگیا ہے۔

  • Share this:
پاکستان کی غیرمستحکم معیشت،عمران خان کےدورحکومت میں قرض کےتناسب میں107فیصدکاتشویشناک اضافہ
پاکستان کی غیرمستحکم معیشت

رواں ماہ کے شروع میں لوگوں کی ٹیلیفون کالوں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان (Imran Khan) نے دعوی کیا کہ پاکستان کے بڑے معاشی اشارے ایک مثبت سمت کی طرف گامزن ہیں۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (International Monetary Fund ) نے حال ہی میں رواں مالی سال کے دوران مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی شرح کا اعلان کیا۔ جس میں پاکستان کے لئے محض 1.5 فیصد کی شرح نمو کی پیش گوئی کی ہے۔


یہ تخمینے عالمی بینک (World Bank) کے مطابق ہیں جس میں 1.3 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کی دیگر دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے ترقیاتی اخراجات جو مالی سال 18-2017 میں جی ڈی پی کے 4.2 فیصد تھی۔ اسی طرح 20-2019 میں جی ڈی پی 2.7 فیصد اور 21-2020 میں جی ڈی پی 2.6 فیصد رہ گئ ہے۔ جب کہ 22-2021 کے بجٹ میں خاطرخواہ اضافہ نہیں ہوا ہے۔


پاکستانی وزیر اعظم عمران خان
پاکستانی وزیر اعظم عمران خان


اس اعداد و شمار کے حساب سے حالیہ اسلام آباد سیکیورٹی ڈائیلاگ (Islamabad Security Dialogue) میں پیش کردہ علاقائی معاشیات کا تیز رفتار نظریہ صرف کاغذات پر ہی نظر آرہا ہے۔ایک پاکستانی ماہر معاشیات کے مطابق 80 فیصد پاکستانی خاندان اپنی آمدنی کا 80 فیصد حصہ اپنی خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔ دو سال پہلے گندم کے آٹے پر ایک اوسط خاندان نے تقریبا 27,000 روپے خرچ کیے تھے۔

آج ایک ہی خاندان کو 58,000 روپیہ خرچ کرنا پڑے گا - جو دو برسوں میں 100 فیصد کا اضافہ ہے۔ اسی طرح ایک اوسط صارف دو برس قبل اس کی ادائیگی کے مقابلے میں بجلی کے لئے سالانہ 66,000 روپے ادا کرتا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ 6 بلین ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کو دوبارہ شروع کرنے کے معاہدے کے مطابق مزید اضافہ جاری ہے۔ ایک اوسط کنبہ اس طرح کے اضافے کا مقابلہ کیسے کرسکتا ہے؟

پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ قرض اور اس کے نتیجے میں قرضوں کی بڑھتی شرح ہے۔ یہاں بھی عمران خان نے قرضوں سے جی ڈی پی کا تناسب 2017 میں 73 فیصد سے 107 فیصد تک بڑھنے کے ساتھ پچھلے ریکارڈوں کو شکست دی ہے۔ایک ماہر معاشیات کے مطابق آصف زرداری کے دور حکومت (2008-13) میں پاکستان نے اضافی قرض لیا۔ نواز شریف (2013-17) کے تحت اضافی یومیہ قرض 8 ارب روپے تھا اور عمران خان کے دور حکومت (2018 کے بعد) روزانہ اضافی یومیہ قرضہ حیرت انگیز طور پر 18 بلین روپے تک جا پہنچا ہے۔

اس طرح پاکستانی معیشت مسلسل غیر مستحکم ہوتی جارہی ہے۔ جس کا اثر اس ملک کے عوام پر بھی پڑے گا۔ عالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ۔19) کے دوران تو پاکستان مزید معاشی مندی کا شکار ہوگیا ہے۔

 
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 19, 2021 09:42 AM IST