உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Economic Survey 2022: وزیر خزانہ نے پیش کی اقتصادی سروے رپورٹ، 10 پوائنٹس میں جانئے سبھی ضروری باتیں

    Economic Survey 2022: وزیر خزانہ نے پیش کی اقتصادی سروے رپورٹ، 10 پوائنٹس میں جانئے سبھی ضروری باتیں

    Economic Survey 2022: وزیر خزانہ نے پیش کی اقتصادی سروے رپورٹ، 10 پوائنٹس میں جانئے سبھی ضروری باتیں

    Economic Survey 2022: اقتصادی سروے میں 2022-23 میں شرح نمو 8 فیصد سے 8.5 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے ذریعہ وزیر خزانہ نے معیشت کے لئے آگے کا روڈ میپ پیش کیا۔ آئیے اقتصادی سروے رپورٹ کے اہم نکات کو سمجھتے ہیں ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : مرکزی بجٹ پیش کرنے سے پہلے پیر کو وزیر خزانہ نرملا سیتارمن (Nirmala Sitharaman) نے اقتصادی سروے 2022 (Economic Survey 2022) رپورٹ کے دستاویز کو پارلیمنٹ میں پیش کیا ۔ اقتصادی سروے میں 2022-23 میں شرح نمو 8 فیصد سے 8.5 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے ذریعہ وزیر خزانہ نے معیشت کے لئے آگے کا روڈ میپ پیش کیا۔ آئیے اقتصادی سروے رپورٹ کے اہم نکات کو سمجھتے ہیں ۔

      1- اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق مالی سال 2021-22 کے لئے شرح نمو 9.2 فیصد رہے گی۔ وہیں اگلے سال (مالی سال 2022-23) کے لئے ترقی کا تخمینہ 8-8.5 فیصد رکھا گیا ہے ۔

      2- رپورٹ کے مطابق اس سال زراعت نے مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ صنعتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئی ہے ۔ زراعتی شعبے کی ترقی کا تخمینہ 3.9 فیصد اور صنعتی شعبے کی ترقی کا تخمینہ 11.8 فیصد لگایا گیا ہے۔ رواں مالی سال کے لئے سروس سیکٹر کی ترقی کا تخمینہ 8.2 فیصد رکھا گیا ۔

      3- سروے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی آمدنی میں کافی تیزی سے بہتری آئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت مالیاتی اقدامات کا اعلان کرنے کی پوزیشن میں ہے ۔ بتادیں کہ جی ایس ٹی کلیکشن شاندار رہا ہے ۔ اس کے علاوہ ٹیکس وصولی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

      4- رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریزرو بینک کے پاس زرمبادلہ کے وافر ذخائر ہیں۔ اس وقت آر بی آئی کے خزانے میں 635 بلین ڈالر کا ریزرو ہے۔ یہ ریزرو حکومت ہند کے 13 ماہ کی درآمدات اور غیر ملکی قرضوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ برآمدات میں بھی تیزی آرہی ہے۔ رواں مالی سال اپریل ۔ دسمبر کے درمیان ملکی برآمدات تقریباً 50 فیصد اضافے کے ساتھ 302 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس کے علاوہ ایف ڈی آئی میں بھی تیزی ہے۔

      5- اقتصادی سروے میں اسٹاک مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ آفت کے باوجود نومبر 2021 تک آئی پی او کے ذریعے 89 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم اکٹھی کی گئی۔ رواں سال آئی پی او کے ذریعہ گزشتہ سال کے مقابلے زیادہ رقم اکٹھی کی گئی۔

      6- اقتصادی سستی کے حوالے سے ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ڈیمانڈ میں تیزی نہیں آرہی ہے۔ اے این آئی نے اقتصادی سروے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال میں کھپت میں 7 فیصد کا اضافہ درج کیا جائے گا ۔ حالانکہ اس ڈیمانڈ میں حکومت کا بڑا رول ہے۔ جب تک پبلک ڈیمانڈ میں اضافہ نہیں ہوتا، یہ صورتحال تشویشناک ہے۔

      7- سروے میں بتایا گیا کہ دسمبر کے مہینے میں خوردہ افراط زر کی شرح سالانہ بنیادوں پر 5.6 فیصد رہی۔ تاہم تھوک مہنگائی کی شرح دوہرے ہندسے میں ہے۔

      8- بینکنگ سیکٹر کے بارے میں کہا گیا کہ بینکنگ سیکٹر میں لیکویڈیٹی کی کمی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بیڈ لون میں بھی گراوٹ آئی ہے۔ مجموعی طور پر ہندوستان کی معیشت مالی سال 2022-23 میں ترقی کی رفتار پکڑنے کیلئے تیار ہے۔

      9- سروے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کورونا کی وجہ سے ہندوستان میں سپلائی کا مسئلہ زیادہ سنگین تھا۔ ڈیمانڈ ہمیشہ بنی رہی۔ معیشت کورونا سے پہلے کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔

      10- سروے میں کہا گیا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر کا جی ایس ٹی کلیکشن پر محدود اثر پڑا۔ جولائی 2021 سے مسلسل جی ایس ٹی کلیکشن 1 لاکھ کروڑ کے پار رہا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: