உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Year Ender 2021: اس سال لگی پٹرول اور ڈیزل میں آگ، 2022 میں بھی راحت کا امکان نہیں

    سال 2021 آئل کنزیومرس کے لئے کافی مشکل بھرا سال رہا۔ حالانکہ اندیشہ ہے کہ سال 2022 میں چیلنجز اس سے بھی بڑے دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ خام تیل نے 2021 میں 86 ڈالر کے قریب کا ہائی لیول درج کیا تھا، حالانکہ اب اندیشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ اگلے سال خام تیل 90 ڈالر فی بیرل کی سطح کو بھی پار کرسکتا ہے۔

    سال 2021 آئل کنزیومرس کے لئے کافی مشکل بھرا سال رہا۔ حالانکہ اندیشہ ہے کہ سال 2022 میں چیلنجز اس سے بھی بڑے دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ خام تیل نے 2021 میں 86 ڈالر کے قریب کا ہائی لیول درج کیا تھا، حالانکہ اب اندیشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ اگلے سال خام تیل 90 ڈالر فی بیرل کی سطح کو بھی پار کرسکتا ہے۔

    سال 2021 آئل کنزیومرس کے لئے کافی مشکل بھرا سال رہا۔ حالانکہ اندیشہ ہے کہ سال 2022 میں چیلنجز اس سے بھی بڑے دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ خام تیل نے 2021 میں 86 ڈالر کے قریب کا ہائی لیول درج کیا تھا، حالانکہ اب اندیشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ اگلے سال خام تیل 90 ڈالر فی بیرل کی سطح کو بھی پار کرسکتا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سال 2021 پٹرول اور ڈیزل میں ریکارڈ تیزی کے لئے جانا جائے گا۔ سال کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں وہ سطح بھی دیکھی جو آج سے پہلے کبھی بھی دیکھے نہیں گئے تھے۔ 2021 کے دوران ریزرو بینک کی پالیسی سے لے کر پارلیمنٹ کی بحث تک پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کااثر دیکھنے کو ملا۔ سینٹرل بینک نے جہاں ڈیزل میں اضافہ کی وجہ سے بڑھتی مہنگائی کو لے کر تشویش ظاہر کی وہیں پورے سال بھر اس ایشو پر اپوزیشن حکومت پر حملہ آور بنا رہا۔

      115 روپے فی لیٹر سے زیادہ ہوا پٹرول 
      سال کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے درمیان راجستھان اورمدھیہ پردیش کے کئی شہروں میں پٹرول نے 115 روپے فی لیٹر کے سطح کو بھی پار کرلیا تھا۔ راجستھان کے شری گنگانگر اور مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ، انوپ پور جیسی جگہوں پر پٹرول 118 روپے فی لیٹر کے بھی پار پہنچا۔ وہیں پورے ملک میں پٹرول نے 100 روپے فی لیٹر کا لیول پار کیا۔ ڈیزل پر بھی یہی اثر دیکھا گیا۔

      ایک سال میں کتنا مہنگا ہوا پٹرول اور ڈیزل
      پچھلے سال کے آخری دن یعنی 31 دسمبر 2020 سے آج تک دلی میں پٹرول 14 فیصد اور ڈیزل 17 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ وہیں 4 میٹرو شہروں میں پٹرول کی قیمت 12 روپے سے لے کر 20 روپے فی لیٹر تک بڑھ گئی ہے۔ وہیں ڈیزل 10 سے 14 روپے فی لیٹر کے درمیان مہنگا ہوگیا ہے۔ قیمتوں میں یہ اضافہ تب ہوا ہے جب دیوالی کے قریب مرکزی اور ریاستی حکومت نے تیل پر لگنے والے ٹیکس میں بڑی کٹوتی کی تھی۔ مرکزی حکومت نے فیسٹیول پر تحفہ دیتے ہوئے پٹرول پر 5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 10 روپے فی لیٹر کے ٹیکس میں کٹوتی کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد ریاستی حکومتوں نے بھی اپنی اپنی طرف سے ٹیکس میں کٹوتی کی جس کی وجہ سے ملک میں پٹرول کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 13 روپے تک کی کٹوتی دیکھنے کو ملی (لداخ اور کرناٹک نے 13 روپے سے زیادہ کی کٹوتی کی)۔ وہیں ڈیزل میں زیادہ سے زیادہ 20 روپے فی لیٹر(لداخ) کی کٹوتی درج ہوئی۔

      آگے بھی قیمتیں کم ہونے کے آثار نہیں
      سال 2021 آئل کنزیومرس کے لئے کافی مشکل بھرا سال رہا۔ حالانکہ اندیشہ ہے کہ سال 2022 میں چیلنجز اس سے بھی بڑے دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ خام تیل نے 2021 میں 86 ڈالر کے قریب کا ہائی لیول درج کیا تھا، حالانکہ اب اندیشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ اگلے سال خام تیل 90 ڈالر فی بیرل کی سطح کو بھی پار کرسکتا ہے۔ گولڈمین کے مطابق سال 2022 میں خام تیل کی مانگ نئے ریکارڈ لیول تک پہنچ سکتی ہے۔۔ جس کی وجہ سے برینٹ کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کو پار کرلے گی۔

      کیا ہوگا مہنگے کروڈ کا گھریلو صارفین پر اثر
      ہندوستان میں تیل کی ضرورت کا زیادہ تر حصہ امپورٹ کیا جاتا ہے۔ وہیں اس کی ریٹیل قیمتیں انٹرنیشنل مارکیٹس میں قیمت اور ہندوستان میں اُس پر لگنے والے ٹیکس کی وجہ سے طئے ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈالر روپے میں ایکسچینج ریٹ سے بھی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے۔ فی الحال ان تینوں معاملوں میں حالات بہتر نہیں ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ وہیں ڈالر کے مقابلے روپیہ اونچی سطح پر ہی ہے۔ اگر فارین مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو گھریلو صارفین کے لئے مشکل بڑھ جائے گی۔ حالانکہ اکنامی میں سدھار کے ساتھ ساتھ حکومت کی انکم میں بھی اضافہ درج ہوتا ہے توآنے والے وقت میں امکانات ہوسکتے ہیں کہ حکومت ٹیکس کو کنٹرول کرکے صارفین پر پڑنے والے دباو کو محدود کرے جیسا کہ فیسٹیول سیزن میں مرکزی حکومت نے کیا تھا۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: