உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وقفے وقفے سے بڑھیں گے پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں، تیل کمپنیوں کو تین مہینوں میں ہوا 19 ہزار کروڑ روپے کا نقصان

     اگر آنے والے وقت میں خام تیل کی قیمتیں گرتی ہیں تو ریٹیل قیمتوں کو اونچی سطح پر رکھ کر تیل کمپنیاں پرانے نقصان کی تلافی کر سکتی ہیں۔ موڈیز نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت خوردہ قیمتوں میں اضافہ کرکے تیل کمپنیوں کے نقصانات کو پورا کرنے کے عمل کو نہیں روکے گی۔

    اگر آنے والے وقت میں خام تیل کی قیمتیں گرتی ہیں تو ریٹیل قیمتوں کو اونچی سطح پر رکھ کر تیل کمپنیاں پرانے نقصان کی تلافی کر سکتی ہیں۔ موڈیز نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت خوردہ قیمتوں میں اضافہ کرکے تیل کمپنیوں کے نقصانات کو پورا کرنے کے عمل کو نہیں روکے گی۔

    اگر آنے والے وقت میں خام تیل کی قیمتیں گرتی ہیں تو ریٹیل قیمتوں کو اونچی سطح پر رکھ کر تیل کمپنیاں پرانے نقصان کی تلافی کر سکتی ہیں۔ موڈیز نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت خوردہ قیمتوں میں اضافہ کرکے تیل کمپنیوں کے نقصانات کو پورا کرنے کے عمل کو نہیں روکے گی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ مختصر وقفوں سے کیا جائے گا۔ یہ سرکاری تیل کمپنیوں کی جانب سے گاڑیوں کے ایندھن کی خوردہ قیمت طے کرنے کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دو دن 80-80 پیسے اضافے کے بعد دو دن کے لیے ریلیف ہے۔ تیل کمپنیاں خود فیصلہ کریں گی کہ خوردہ قیمتوں میں کتنی بار اضافہ کیا جائے۔ تاہم یہ بات یقینی ہے کہ اضافے کا یہ رجحان طویل عرصے تک جاری رہے گا۔ وجہ یہ ہے کہ نومبر 2021 سے مارچ 2022 کے وسط تک تیل کمپنیوں نے قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

      تین مہینوں میں 19 ہزار کروڑ کا نقصان
      بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز کی رپورٹ کے مطابق ان مہینوں کے دوران انڈین آئل، بھارت پیٹرولیم اور ہندوستان پیٹرولیم کو کم قیمت پر پیٹرول اور ڈیزل فروخت کرنے کی وجہ سے مجموعی طور پر 19,000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نومبر 2021 میں ہندوستان نے اوسطاً 89.34 ڈالر فی بیرل کے حساب سے خام تیل خریدا تھا، جو دسمبر 2021 میں کم ہو کر 83.45 ڈالر فی بیرل پر آ گیا تھا۔ جنوری 2022 میں یہ بڑھ کر 97.09 ڈالر فی بیرل اور فروری 2022 میں 108.70 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ 4 نومبر 2021 سے 20 مارچ 2022 تک پٹرول اور ڈیزل میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Zomato شروع کرے گا سب سے تیز سروس، کئی ریسٹورنٹس کے ساتھ بات چیت آخری مرحلہ میں

      خام تیل کی لاگت میں مسلسل اضافہ
      خام تیل کی خریداری کے اعداد و شمار سے یہ واضح ہے کہ سرکاری تیل کمپنیوں کے لیے خام تیل کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہی نہیں، اس عرصے کے دوران روپیہ بھی ڈالر کے مقابلے 73.92 کی سطح سے بڑھ کر 77 کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ ڈالر کے مقابلے روپے کی گرتی ہوئی قیمت تیل کمپنیوں کے لیے خام تیل کی قیمت میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ مغربی بنگال، آسام سمیت پانچ ریاستوں کے انتخابات کے دوران بھی تیل کمپنیوں نے قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا تھا، لیکن اس کے بعد تقریباً دو ماہ تک روزانہ 35 پیسے کا اضافہ کیا۔ اس بار روزانہ اضافے کے امکانات کم ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      مہنگائی کادوہراجھٹکا!137دن بعدPetrol-Dieselکی قیمت80 پیسے لیٹر،رسوئی گیس LPGکے بھی بڑھےدام

      حکومت کی جانب سے مداخلت کرنے کے امکانات کم
      موڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت خام تیل کی قیمت کو دیکھتے ہوئے تیل کمپنیوں کو پیٹرول پر 25 ڈالر (1900 روپے) فی بیرل اور ڈیزل پر 24 ڈالر فی بیرل کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس کے مطابق مذکورہ تین بڑی تیل کمپنیاں روزانہ 6.5-7 ملین ڈالر کا نقصان اٹھا رہی ہیں۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے انہیں خوردہ قیمتوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔ آمدنی میں ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے ان کمپنیوں کو مختصر مدت میں مزید قرض لینا پڑے گا۔ اگر آنے والے وقت میں خام تیل کی قیمتیں گرتی ہیں تو ریٹیل قیمتوں کو اونچی سطح پر رکھ کر تیل کمپنیاں پرانے نقصان کی تلافی کر سکتی ہیں۔ موڈیز نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت خوردہ قیمتوں میں اضافہ کرکے تیل کمپنیوں کے نقصانات کو پورا کرنے کے عمل کو نہیں روکے گی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: