ہوم » نیوز » معیشت

آدھی ہو سکتی ہیں پٹرول۔ڈیزل کی قیمتیں، حکومت کر رہی ہے اس متبادل پر غور

پٹرول۔ڈیزل (Petrol-Diesel) کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ اگر مرکزی حکومت پٹرولیم مصنوعات کو گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی GST) کے دائرے میں لے آئے تو عام آدمی کو راحت مل سکتی ہے۔

  • Share this:
آدھی ہو سکتی ہیں پٹرول۔ڈیزل کی قیمتیں، حکومت کر رہی ہے اس متبادل پر غور
پٹرول اور ڈیزل کی قیمیتیں

پٹرول۔ڈیزل (Petrol-Diesel) کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ اگر مرکزی حکومت پٹرولیم مصنوعات کو گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی GST) کے دائرے میں لے آئے تو عام آدمی کو راحت مل سکتی ہے۔ وزریر خزانہ نرملا سیتا رمن  (Finance Minister Nirmala Sitharaman) اور پٹرولیم وزیر دھرمیندر پردھان (Petroleum Minister Dharmendra Pradhan) نے اس کے اشارے بھی دئے ہیں۔ جی ایس ٹی کی اعلی شرح پر بھی پٹرول۔ڈیزل کو رکھاجائے تو موجودہ قیمتیں گھٹ کر آدھی رہ سکتی ہیں۔

فی الحال  مرکزی حکومت پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز اور اسٹیٹ ویٹ لگاتی ہے۔ ان دونوں کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ  35 روپئے کا پیٹرول مختلف ریاستوں میں 90 سے 100 روپے فی لیٹر تک پہنچ رہا ہے۔




23 فروری کو دہلی میں پٹرول کی قیمت 90.93 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 81.32 روپے فی لیٹر تھی۔ مرکز نے فی لیٹر 32.98 روپے اور 31.83 روپے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی عائد کردی ہے۔ یہ تب ہے جبکہ ملک میں جی ایس ٹی لاگو ہے۔ جی ایس ٹی 1 جولائی 2017 کو پیش کیا گیا تھا۔ حکومت نے پٹرول۔ڈیزل میں GST  لانے کا اشارہ دیا ہے۔ اگر GST  کی ہائر سلین بھی لگائی جائے تو موجودہ قیمتیں آدھی رہ جائیں گی۔ اب سیتارامن نے ایندھن کی قیمتوں میں کمی لانے کے لئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان مشترکہ تعاون پر زور دیا۔
petrol
جی ایس ٹی میں اندھن کو شامل کرنے کا یہ ہوگا اثر
اگر پٹرولیم مصنوعات کو جی ایس ٹی کے تحت شامل کیا جاتا ہے تو ملک بھر میں ایندھن کی ایک جیسی قیمت ہوگی۔ یہی نہیں اگر جی ایس ٹی کونسل نے کم سلیب کا متبادل چنا تو قیمتوں میں کمی آسکتی ہے۔ فی الحال ہندستان میں چار پرائمری جی ایس ٹی شرح ہیں۔  5 فیصد، 12 فیصد، 18 فیصد اور 28  فیصد جبکہ ابھی مرکزی حکومت و ریاستی حکومتیں ایکسائز ڈیوٹی اور ویٹ کے نام پر 100  فیصد سے زیادہ ٹیکس وصول رہی ہیں۔
Published by: Sana Naeem
First published: Feb 25, 2021 02:33 PM IST