உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مہنگا ہوسکتا ہےPetrol-Dieselپانچ ریاستوں میں ووٹنگ ختم، اسلئے 20-25 روپئے بڑھ سکتے ہیں دام، خام تیل بھی 140 ڈالر فی بیرل کے پار

     خبر ہے کہ خام تیل کے ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد ہندستان میں حکومت اور سرکاری تیل کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے منتھن شروع کر دیا ہے۔

    خبر ہے کہ خام تیل کے ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد ہندستان میں حکومت اور سرکاری تیل کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے منتھن شروع کر دیا ہے۔

    خبر ہے کہ خام تیل کے ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد ہندستان میں حکومت اور سرکاری تیل کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے منتھن شروع کر دیا ہے۔

    • Share this:
      Petrol Diesel price: پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آنے والے دنوں میں بڑھ سکتی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ 5 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کا اختتام ہے۔ بھارت میں پٹرول ڈیزل کی قیمتوں اور انتخابی رجحانات سے پتہ چلتا ہے کہ مودی حکومت انتخابات سے عین قبل قیمتوں میں اضافے سے بچتی رہی ہے۔ حالانکہ چناؤ ختم ہونے کے بعد قیمتوں میں اضافہ کرنے میں دیر نہیں کرتی۔ اس وجہ سے پٹرول اور ڈیزل میں 20-25 روپے کا اضافہ طے مانا جا رہا ہے۔ خبر ہے کہ خام تیل کے ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد ہندستان میں حکومت اور سرکاری تیل کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے منتھن شروع کر دیا ہے۔

      تیل کمپنیوں نے 3 نومبر سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ رجحان یہ بھی کہتا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ ایک ساتھ نہیں بلکہ ہر روز ہوگا۔ یعنی آج قیمت میں تقریباً 15 روپے اضافہ کیا جائے اور پھر دھیرے۔ دھیرے 5-10 روپے کی بڑھوتری کی جائے۔

      روس یوکرین جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل (برینٹ کروڈ Brent crude)) کی قیمت 140 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ دسمبر 2021 میں خام تیل کی اوسط قیمت $73 کے قریب تھی۔ یعنی خام تیل crude oil کی قیمت تقریباً دوگنی ہو گئی ہے لیکن پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پبلک سیکٹر آئل کمپنیوں انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پیٹرولیم اور ہندوستان پیٹرولیم کو پیٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 15-20 روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے کمپنیوں کا نقصان بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔


      یوکرین جنگ (Russia-Ukraine War) کی آگ میں جل رہا ہے۔

      روس یوکرین جنگ کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ۔
      24 فروری 2022 کو یوکرین پر روس کے حملے کے فوراً بعد، دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں کریش ہوگئیں، سونے کی قیمتیں بڑھ گئیں اور خام تیل ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔ جنگ کے دن خام تیل 100 ڈالر کے قریب ٹریڈ کر رہا تھا جو اب 140 تک پہنچ گیا ہے۔ یعنی روس تیل اور قدرتی گیس کا بڑا پروڈیوسر ہے۔ BP Statistical Review کے مطابق، روس 2020 میں خام تیل اور قدرتی گیس کے کنڈینسیٹ کی پیداوار کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر تھا۔ اس دوران روس نے 10.1 ملین بیرل یومیہ پیداوار کی۔ روس کی جارحیت کے باعث کئی مغربی ممالک نے روس پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اس کی وجہ سے خام تیل کی سپلائی کو لے کر غیر یقینی صورتحال ہے اور قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: