உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Finance Ministry: استثنیٰ ٹیکس نظام ختم کرنے کی تیاری، وزارت خزانہ پرانے ٹیکس نظام کا جائزہ لے گی

    وزارت خزانہ پرانے ٹیکس سسٹم کا جائزہ لے گی۔

    وزارت خزانہ پرانے ٹیکس سسٹم کا جائزہ لے گی۔

    Finance Ministry: انفرادی انکم ٹیکس دہندگان کے لیے یکم فروری 2020 کو متعارف کرائے گئے نئے ٹیکس نظام میں، 2.5 لاکھ روپے کی سالانہ آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جاتا ہے۔

    • Share this:
      Finance Ministry: وزارت خزانہ چھوٹ یا رعایت سے پاک ٹیکس نظام کا جائزہ لینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس کا جائزہ لینے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ انفرادی انکم ٹیکس دہندگان کے لیے اسے مزید پرکشش بنایا جا سکے۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت ٹیکس کا ایسا نظام قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں کوئی رعایت نہ ہو۔

      اس کے ساتھ ہی چھوٹ اور کٹوتیوں والے ٹیکس کے پیچیدہ پرانے نظام کو دور کیا جا سکتا ہے۔ 2020-21 کے بجٹ میں حکومت نے ٹیکس کا نیا نظام نافذ کیا تھا۔ اس میں ٹیکس دہندگان کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ مختلف کٹوتیوں اور چھوٹ کے ساتھ پرانے نظام اور چھوٹ اور کٹوتیوں کے بغیر کم شرحوں کے نئے نظام میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔

      نئے ٹیکس نظام کے تجربے کے بارے میں ذرائع نے بتایا کہ واضح اشارے مل رہے ہیں کہ جن لوگوں نے اپنے قرضے ادا کیے ہیں وہ نئے ٹیکس نظام کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کسی چھوٹ کا دعویٰ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ نئے ٹیکس نظام میں ٹیکسوں میں کمی اسے مزید پرکشش بنائے گی۔

      کارپوریٹ کے لئے بھی لایا گیا تھا نظام
      اسی طرح کا ٹیکس نظام کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے لیے ستمبر 2019 میں بھی متعارف کرایا گیا تھا۔ اس میں ٹیکس کی شرح میں کمی کی گئی۔ اس کے علاوہ چھوٹ یا رعایتیں بھی ختم کر دی گئیں تھیں۔

      یہ بھی پڑھیں:

      GST on Rentals: کیا رینٹ پر گھر لینے پر آپ کو دینا ہوگا 18فیصد GST، حکومت نے دی یہ صفائی

      یہ بھی پڑھیں:
      Unclaimed Funds:بینکوں میں بنادعوے کے رکھے ہوئے ہیں40ہزارکروڑروپے،مرکزکوSCنے دی یہ ہدایت

      انفرادی انکم ٹیکس دہندگان کے لیے یکم فروری 2020 کو متعارف کرائے گئے نئے ٹیکس نظام میں، 2.5 لاکھ روپے کی سالانہ آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جاتا ہے۔ 2.5 سے 5 لاکھ تک کی آمدنی پر پانچ فیصد ٹیکس لگتا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: