اپنا ضلع منتخب کریں۔

    آربی آئی کی جانب سےڈیجیٹل کرنسی پرکام جاری، ان9بینکوں کوڈیجیٹل کرنسی ٹریڈنگ کی ملےگی اجازت

    پلیٹ فارمز پر ہونے والی تجارت کو خفیہ رکھا جاتا ہے

    پلیٹ فارمز پر ہونے والی تجارت کو خفیہ رکھا جاتا ہے

    منی کنٹرول کی رپورٹ کے مطابق اس معاملہ سے واقف تین عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہمیں آر بی آئی کی طرف سے سرکاری سیکیورٹیز میں تجارت کرنے کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے، جس میں ہم ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال کرتے ہوئے لین دین کریں گے۔ جس میں درج ذیل بینک شامل ہیں:

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Jammu | Hyderabad | Lucknow Cantonment | Karnataka
    • Share this:
      ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے ایک نئے پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی (Digital Rupee) کے آغاز سے متعلق اعلان کیا ہے۔ جس کو استعمال کرتے ہوئے سرکاری سیکیورٹیز میں تجارت کرنے کے لیے نو بینکوں کو ایک پلیٹ فارم کی پیشکش کی گئی ہے۔ جسے نیگوشیٹڈ ڈیلنگ سسٹم آرڈر میچنگ (NDS-OM) کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل آر بی آئی نے 31 اکتوبر کو کہا تھا کہ ڈیجیٹل روپیہ-ہول سیل سیگمنٹ میں ہندوستان کا پہلا پائلٹ پروجیکٹ 1 نومبر سے شروع ہوگا۔ اس کرنسی کا نام سنٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی رکھا گیا ہے۔

      منی کنٹرول کی رپورٹ کے مطابق اس معاملہ سے واقف تین عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہمیں آر بی آئی کی طرف سے سرکاری سیکیورٹیز میں تجارت کرنے کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے، جس میں ہم ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال کرتے ہوئے لین دین کریں گے۔ جس میں درج ذیل بینک شامل ہیں:

      • بینک آف بڑودہ

      • اسٹیٹ بینک آف انڈیا

      • یونین بینک آف انڈیا

      • ایچ ڈی ایف سی بینک

      • آئی سی آئی سی آئی بینک

      • کوٹک مہندرا بینک

      • ایس بینک

      • آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک

      • ایچ ایس بی سی


      ان بینکوں کو پروجیکٹ کے پہلے پارٹ میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے، جو کہ ملک گیر سطح پر ڈیجیٹل کرنسی فراہم کرسکتے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ این ڈی ایس۔ او ایم پلیٹ فارم پر 1 نومبر کی رات 12 بجے تک 100 کروڑ روپے سے زیادہ کا لین دین ہوا۔ رپورٹ کے مطابق کلیئرنگ کارپوریشن آف انڈیا کے پورٹل نے ظاہر کیا کہ پہلے دن 275 کروڑ روپے کے بانڈز کی لین دین تھوک سنٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے کی گئی۔

      عہدیداروں میں سے ایک نے دعویٰ کیا کہ چونکہ پلیٹ فارم پر لین دین تیزی سے طے پاتے ہیں، اس لیے بینکوں کے اخراجات کم ہوتے ہیں اور تصفیہ کا وقت کم ہوتا ہے۔ کلیئرنگ کارپوریشن آف انڈیا (CCIL) سرکاری سیکیورٹیز میں سودے طے کرتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ سیکیورٹیز ڈیبٹ کی جاتی ہیں اور لین دین کی تاریخ کے ایک دن بعد رقم جمع ہوجاتی ہے۔

      تاہم نئے پلیٹ فارم پرکسی تیسرے فریق کی شمولیت نہیں ہے اور تصفیہ فوری طور پر ہو جاتا ہے۔ نئے پلیٹ فارم میں بنیادی طور پر کوٹیشن کی درخواست کا استعمال کیا جاتا ہے، جو ایک دستاویز ہے جو خریدار کی ضروریات کو بیان کرتی ہے اور قیمتوں اور ادائیگی کی شرائط کے ساتھ وینڈرز سے جوابات کی درخواست کرتی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      ذرائع کے مطابق پلیٹ فارمز پر ہونے والی تجارت کو خفیہ رکھا جاتا ہے تاہم تاخیر سے ہونے والے معاملات کو منسوخ بھی کیا جاسکتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: