உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    RBI کی مونیٹری پالیسی کا جائزہ اجلاس آج، چوتھی مرتبہ بھی بڑھ سکتا ہے ریپو ریٹ

    آر بی آئی کے گورنر شکتی کانت داس

    آر بی آئی کے گورنر شکتی کانت داس

    Monetary Policy: ہندوستان میں مہنگائی کی شرح سات فیصدی ہے جب کہ آر بی آئی کا ہدف 2 سے 6 فیصدی ہے۔ مئی سے لے کر اب تک کے تین بار میں اس نے شرح سود میں 1.40 فیصدی کا اضافہ کیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai, India
    • Share this:
      Monetary Policy: ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کی مونیٹری پالیسی جائزے کا تین روزہ اجلاس آج سے شروع ہورہا ہے۔ ایسی امید ظاہر کی جارہی ہے کہ مرکزی بینک 30 ستمبر کو ریپو ریٹ میں 0.50 فیصد کا اضافہ کرسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ریپو ریٹ 5.90 فیصد پر چلا جائے گا، جو ابھی 5.40 فیصد ہے۔ پچھلے ہفتے ہی قریب ایک درجن مرکزی بینکوں نے شرح سود میں اضافہ کیا تھا۔ امریکہ کے بینک نے 0.75 فیصد کا اضافہ کیا تھا۔

      دراصل مہنگائی پر قابو پانے کے لئے دنیا بھر کے مرکزی بینک شرح سود کو بڑھانے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ باوجود اس کے مہنگائی کی شرح ان کے اہداف سے زیادہ ہے۔ ہندوستان میں مہنگائی کی شرح سات فیصدی ہے جب کہ آر بی آئی کا ہدف 2 سے 6 فیصدی ہے۔ مئی سے لے کر اب تک کے تین بار میں اس نے شرح سود میں 1.40 فیصدی کا اضافہ کیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      مسلسل شرح سود بڑھانے کے بعد بھی زیادہ تر ممالک میں 8 فیصدی سے زیادہ ہے خوردہ افراط زر

      واٹس ایپ کال کے لئے دینے ہوں گے پیسے!جانیے نئے ٹیلیکام بل میں کیا ہیں پروویژن

      یہ بھی پڑھیں:
      ٹاٹا کی کمپنی بھی بنائے گی آئی فون، اس وجہ سے کم ہوسکتی ہے قیمتیں

      1اکتوبر سے بڑھ سکتی ہے CNG اور PNG کی قیمت، ریکارڈ سطح پر پہنچ سکتے ہیں قدرتی گیس کے دام

      کرناٹک میں لاجسٹک پارک کی تعمیر کے لئے 37 ملین ڈالر کی ہوگی سرمایہ کاری، جانیے تفصیل

      جانیے کیا کہتے ہیں ماہرین
      غیر ملکی کرنسی مارکیٹ میں حالیہ پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے، آر بی آئی پالیسی کی شرحوں میں 0.50 فیصد اضافہ بھی کر سکتا ہے۔ -مدن سب نویس، چیف اکانومسٹ، بینک آف بڑودہ

      ریپو ریٹ میں 0.50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کی بلند ترین سطح کی شرح 6.25 فیصد تک جائے گی اور دسمبر میں حتمی ترقی 0.35 فیصد ہوگی۔ -ایس بی آئی
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: