ہوم » نیوز » معیشت

عدالت پہنچا ریلائنس Jio، ٹاووروں کو نقصان پہنچانے والوں پر کارروائی کی مانگ

عرضی میں کمپنی نے کہا ہے کہ پہنجاب میں کچھ شرپسندوں کے ذریعے گزشتہ کچھ پفتوں میں اس کے 1500 سے زیادہ موبائل ٹاوروں کو نقصان پہنچا ہے جس سے موبائل نیٹ ورک میں رکاوٹ آگئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس کے سینٹروں اور اسٹور کو بھی شرپسندوں کے ذریعے غیر قانونی طاقت اور دھمکی کا استعمال کرکے زبردستی بند کرایا گیا۔

  • Share this:
عدالت پہنچا ریلائنس Jio، ٹاووروں کو نقصان پہنچانے والوں پر کارروائی کی مانگ
عرضی میں کمپنی نے کہا ہے کہ پہنجاب میں کچھ شرپسندوں کے ذریعے گزشتہ کچھ پفتوں میں اس کے 1500 سے زیادہ موبائل ٹاوروں کو نقصان پہنچا ہے جس سے موبائل نیٹ ورک میں رکاوٹ آگئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس کے سینٹروں اور اسٹور کو بھی شرپسندوں کے ذریعے غیر قانونی طاقت اور دھمکی کا استعمال کرکے زبردستی بند کرایا گیا۔

ریلائنس جیو انفو کوم لمیٹیڈ (Reliance Jio Infocomm Ltd) نے پیر پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کا رخ کرکے اس کی نیٹ ورک کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے اور اس کے اسٹور کو زبردستی بند کرانے والے لوگوں کے خلاف کئے جانے کی درخواست کی۔ کمپنی نے اس معاملے میں پنجاب اسٹیٹ (اپنے چیف سکریٹری کے ذریعے) ، مرکزی وزارت داخلہ امور اور محکمہ ٹیلی مواصلات کو مدعا علیہ (defendants) بنایا ہے۔


ایک سول پٹیشن میں ریلائنس انڈسٹریز کے ایک ذیلی ادارہ نے شرپسندوں کے ذریعہ ان کے خلاف '' ذاتی مفادات اور مسلسل پروپیگنڈا مہم '' کی تحقیقات کے لئے مدعا علیہ سے مناسب ہدایات دینے کی درخواست کی۔ یہ درخواست ایڈوکیٹ آشیش چوپڑا کے ذریعے سے دائر کی گئی تھی اس کی فوری سماعت کیلئے منگل کو درج ہونے کا امکان ہے۔


1500 سے زیادہ موبائل ٹاوروں کو نقصان پہنچا ہے

عرضی میں کمپنی نے کہا ہے کہ پہنجاب میں کچھ شرپسندوں کے ذریعے گزشتہ کچھ پفتوں میں اس کے 1500 سے زیادہ موبائل ٹاوروں کو نقصان پہنچا ہے جس سے موبائل نیٹ ورک میں رکاوٹ آگئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس کے سینٹروں اور اسٹور کو بھی شرپسندوں کے ذریعے غیر قانونی طاقت اور دھمکی کا استعمال کرکے زبردستی بند کرایا گیا۔

ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ(آر آئی ایل) نے سوموار کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں اپنی سبسڈیری جیو انفو کام کے ذریعہ دائر پٹیشن میں کہا کہ نئے تین زرعی قوانین کا کمپنی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہے کسی بھی طرح سے اسے ان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے ۔ اپنی پوزیشن واضح کرنے کیلئے کورٹ میں ریلائنس نے کہا کہ ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ، ریلائنس رٹیل لمیٹڈ ( RRL) ، ریلائنس جیو انفو کام لمیٹڈ(RJIL) اور ریلائنس سے جڑی کوئی بھی دیگر کمپنی نہ تو کارپوریٹ یا کنٹریکٹ فارمنگ کرتی ہے اور نہ ہی کرواتی ہے۔ اور نہ ہی اس بزنس میں اترنے کی کمپنی کی کوئی پلاننگ ہے۔

’’ کارپوریٹ ‘‘ یا ’’ کنٹریکٹ ‘‘ کھیتی کیلئے ریلائنس کی معاون کسی بھی کمپنی نے راست یا براہ راست طور سے کھیتی کی کوئی بھی زمین ہریانہ ، پنجاب یا ملک کے کسی بھی دوسرے حصہ میں نہیں خریدی ہے ۔ نہ ہی ایسا کرنے کی ہماری کوئی اسکیم ہے ۔ ریلائنس نے کورٹ کو یہ بھی بتایا کہ ریلائنس رٹیل منظم رٹیل سیکٹر کی کمپنی ہے اور مختلف کمپنیوں کے الگ الگ پروڈکٹ بیچتی ہے ، لیکن کمپنی کسانوں سے سیدھے اناج کی خرید نہیں کرتی ہے اور نہ ہی کسانوں کے ساتھ کوئی طویل مدتی خریداری کنٹریکٹ میں کمپنی شامل ہے۔

ریلائنس نے 130 کروڑ ہندوستانیوں کاپیٹ بھرنے والے کسان کو انّ داتا بتایا اور کسان کی خوشالی اور ترقی کیلئے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ کسانوں میں پھیلی غلط فہمیاں دور کرتے ہوئے ریلائنس نے کورٹ کو بتایا کہ وہ اور ان کے سپلائرز، سہارا قیمت( MSP ) یا طے شدہ سرکاری قیمت پر ہی کسانوں سے خرید پر زور دیں گی  ۔ تاکہ کسان کو اس کی پیداوار کی بہترین قیمت مل سکے۔
پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر کے ریلائنس نے انتظامیہ سے شرپسندوں کے ذریعہ توڑ پھوڑ کی غیر قانونی وارداتوں پر فوراً روک لگانے کی مانگ کی ۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ شرپسندوں کے ذریعہ کی گئی توڑ پھوڑ اور پر تشدد کارروائی سے ریلائنس سے وابستہ ہزاروں ملازمین کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے اور ساتھ ہی پنجاب اور ہریانہ میں چلائے جارہے اہم کمیونیکیشن انفراسٹرکچر ، سیلز اور سروس آوٹ لیٹ کے روزمرہ کے کاموں میں خلل پیدا ہوا ہے۔

(ڈسکلیمر: نیوز 18 اردو ڈاٹ کام ریلائنس انڈسٹریز کی کمپنی نیٹ ورک 18 میڈیا اینڈ انویسٹمنٹ لمیٹڈ کا حصہ ہے۔ نیٹ ورک 18 میڈیا اینڈ انویسٹمنٹ لمیٹڈ ریلائنس انڈسٹریز کی ملکیت ہے۔)


Published by: Sana Naeem
First published: Jan 05, 2021 09:57 AM IST