آر بی آئی کا فیصلہ، این ای ایف ٹی اور آر ٹی جی ایس پر اب چارج نہیں، اے ٹی ایم فیس کا جائزہ لینے کا فیصلہ

مرکزی بینک کی مانیٹری جائزہ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد جمعرات کو جاری ’ترقی پذیر اور ریگولیٹرپالیسی بیان‘ میں کہا گیا ہے کہ اس کے بارے میں ایک ہفتے کے اندر ہدایات جاری کئے جائیں گے

Jun 06, 2019 04:04 PM IST | Updated on: Jun 06, 2019 04:05 PM IST
آر بی آئی کا فیصلہ، این ای ایف ٹی اور آر ٹی جی ایس پر اب چارج نہیں، اے ٹی ایم فیس کا جائزہ لینے کا فیصلہ

آر بی آئی کے گورنر شکتی کانت داس کی فائل فوٹو: فوٹو کریڈٹ رائٹرز۔

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے ریئل ٹائم گروس سیٹلمنٹ سسٹم (آرٹي جي ایس) اور نیشنل الیکٹرانک فنڈز ٹرانسفر (این ای ایف ٹی ) بغیر فیس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی بینک کی مانیٹری جائزہ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد جمعرات کو جاری ’ترقی پذیر اور ریگولیٹرپالیسی بیان‘ میں کہا گیا ہے کہ اس کے بارے میں ایک ہفتے کے اندر ہدایات جاری کئے جائیں گے۔ بیان کے مطابق’’ڈجیٹل لین دین کو فروغ دینے کے لئے ریزرو بینک کی طرف سے آرٹي جي ایس اور این ای ایف ٹی نظام کو ڈیوٹی فری بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد بینک بھی اس فیصلے کا فائدہ اپنے صارفین کو دے گا‘‘۔

فی الحال آر بی آئی آرٹي جي ایس اور این ای ایف ٹی سسٹم کے ذریعے ہونے والے لین دین کے لئے بینکوں سے فیس لیتا ہے جس کے بدلے بینک اپنے گاہکوں سے اس کے لئے فیس وصول کرتے ہیں۔ نیٹ بینکنگ کے ذریعے آن لائن لین دین تین طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ آر ٹي جي ایس اور این ای ایف ٹی کے علاوہ آئی ایم پی ایس(انسٹنٹ پیمنٹ سروس) یعنی فوری ادا ئیگی سروس بھی ایک نظام ہے جس کی فیس این ای ایف ٹی سے زیادہ ہوتی ہے۔

بیان میں آئی ایم پی ایس کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ آر ٹي جي ایس صرف دو لاکھ روپے یا اس سے زیادہ کی رقم کے لین دین کے لئے استعمال ہوتا ہے جبکہ آئی ایم پی ایس کا استعمال صرف دو لاکھ روپے تک کے لین دین کے لئے ہو سکتا ہے۔

اے ٹی ایم فیس کا جائزہ لینے کا فیصلہ

Loading...

وہیں،  اے ٹی ایم اور اس کے استعمال سے منسلک تمام قسم کے محصولات( فیس/چارجز) کا جائزہ لینے کے لئے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے ایک کمیٹی بنائی ہے جو دو ماہ میں اپنی رپورٹ سونپے گی۔

مرکزی بینک کی مانیٹری جائزہ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد جمعرات کو جاری ’ترقی پذیر اور ریگو لیٹرپالیسی بیان‘ میں کہا گیا ہے کہ ’’لوگوں میں اے ٹی ایم کا استعمال بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تاہم، اے ٹی ایم محصولات میں تبدیلی کی مانگ بار بار کی جا رہی ہے۔ اس معاملے پر، تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرتے ہوئے، انڈین بینک ایسو سی ایشن (آئی یی اے ) کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو اے ٹی ایم سے منسلک تمام قسم کے محصولات کا جائزہ لے گی‘‘۔

آر بی آئی نے بتایا کہ کمیٹی کے دیگر ارکان کے نام اور اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں ایک ہفتے میں اعلان کیا جائے گا اور کمیٹی کی پہلی میٹنگ کے دو ماہ کے اندر اندر وہ اپنی سفارشات سونپ دے گی۔

Loading...