உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان سب سے زیادہ عدم مساوات والے ملکوں میں شامل1 فیصد لوگوں کے پاس قومی آمدنی کا 22 فیصد حصہ

    ہندوستان کی 10 فیصد آبادی کے پاس کل قومی آمدنی کا 57 فیصد ہے، جب کہ ایک فیصد آبادی کے پاس 22 فیصد ہے۔ (پی ٹی آئی)

    ہندوستان کی 10 فیصد آبادی کے پاس کل قومی آمدنی کا 57 فیصد ہے، جب کہ ایک فیصد آبادی کے پاس 22 فیصد ہے۔ (پی ٹی آئی)

    اس رپورٹ کو تیار کرنے میں فرانس کے اکنامسٹ تھامس پیکیٹّی سمیت کئی ماہرین نے تعاون کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اب دنیا کے سب سے زیادہ عدم مساوات والے ملکوں کی فرہست میں شامل ہوگیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستان (India) ایک غریب اور سب سے زیادہ عدم مساوات والے ملکوں کی لسٹ میں شامل ہوگیا ہے۔ ملک میں سال 2021 میں 1 فیصدی آبادی کے پاس قومی آمدنی (National Income) کا 22 فیصدی حصہ ہے، جب کہ نچلے طبقے کے پاس 13 فیصدی ہے۔ ’ عالمی عدم مساوات رپورٹ 2022‘ (World inequality Report 2022) عنوان والی رپورٹ کے رائٹر لوکاس چانسل ہیں جو کہ ’ورلڈ اِن اکوالیٹی لیب‘ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیں۔

      بالغ آبادی کی اوسطاً قومی آمدنی 2,04,200 روپے
      اس رپورٹ کو تیار کرنے میں فرانس کے اکنامسٹ تھامس پیکیٹّی سمیت کئی ماہرین نے تعاون کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اب دنیا کے سب سے زیادہ عدم مساوات والے ملکوں کی فرہست میں شامل ہوگیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی بالغ آبادی کی اوسطاً قومی آمدنی 2,04,200 روپے ہے جب کہ نچلے طبقے کی آبادی (50 فیصدی)کی انکم 53,610 روپے ہے۔ سرفہرست 10 فیصدی آبادی کی انکم اس سے قریب 20 گنا (11,66,520) زیادہ ہے۔

      سرفہرست 10 فیصد آبادی کے پاس مجموعی قومی آمدنی کا 57 فیصد
      رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کی سرفہرست 10 فیصدی آبادی کے پاس مجموعی قومی آمدنی کا 57 فیصدی، جب کہ ایک فیصدی آبادی کے پاس 22 فیصدی ہے۔ وہیں، نیچے سے 50 فیصدی آبادی کی اس میں حصہ داری صرف 13 فیصدی ہے۔ اس کے مطابق، ہندوستان میں اوسطاً گھریلو جائیداد 9،83،010 روپے ہے۔ اس میں کہا گیا ہے ، ’ہندوستان ایک غریب اور کافی عدم مساوات والا ملک ہے جہاں ایلیٹ کلاس کے لوگ بھرے پڑے ہیں۔‘

      صنفی عدم مساوات بہت زیادہ
      رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں صنفی عدم مساوات بہت زیادہ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے، ’خاتون مزدوروں کی آمدنی کی حصہ داری 18 فیصدی ہے۔ یہ ایشیا ے اوسطاً (21 فیصدی، چین کو چھوڑ کر) سے کم ہے۔’


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: