ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کووڈ۔19 سے متاثرہ کم آمدنی والے لوگوں کی مدد کے لیے 8 لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کی ضرورت: رپورٹ

یہ رپورٹ کنزیومر پیرامڈس ہاؤسنگ سروے، عظیم پریم جی فاؤنڈیشن (Consumer Pyramids Household Survey, Azim Premji Foundation) اور بہت سی دوسری سول سوسائٹی تنظیموں کے کی جانب سے کئے گئے سروے پر مبنی ہے۔

  • Share this:
کووڈ۔19 سے متاثرہ کم آمدنی والے لوگوں کی مدد کے لیے 8 لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کی ضرورت: رپورٹ
یہ رپورٹ کنزیومر پیرامڈس ہاؤسنگ سروے، عظیم پریم جی فاؤنڈیشن (Consumer Pyramids Household Survey, Azim Premji Foundation) اور بہت سی دوسری سول سوسائٹی تنظیموں کے کی جانب سے کئے گئے سروے پر مبنی ہے۔

دنیا بھر میں کورونا نے تباہی مچا رکھی ہے۔ کورونا کی وجہ سے ریاستی حکومتیں اپنے اپنے حساب سے لاک ڈاؤن، کرفیو جیسے اقدام اٹھا رہی ہے۔ اب ایسے میں عظیم پریم جی یونیورسٹی (Azim Premji University) کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ کووڈ۔19 کے معاشی اثرات کی وجہ سے کم آمدنی والے طبقے کو درپیش مشکلات سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جسے دور کرنے کے لئے حکومت کو 8 لاکھ کروڑ روپے کا امدادی پیکیج تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ کنزیومر پیرامڈس ہاؤسنگ سروے، عظیم پریم جی فاؤنڈیشن (Consumer Pyramids Household Survey, Azim Premji Foundation) اور بہت سی دوسری سول سوسائٹی تنظیموں کے کی جانب سے کئے گئے سروے پر مبنی ہے۔


سی ایم آئی ای-سی پی ایچ ایس (CMIE-CPHS) کے اعداد و شمار پر مبنی حساب کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کووڈ۔19 کے معیشت پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے تقریبا 23 کروڑ افراد خط غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ سنہ 2020 کے آخر میں اسٹیٹ آف دی ورک 2021 کے عنوان سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیڑھ کروڑ کے قریب مزدور بے روزگار ہیں۔ اس تحقیق میں پتا چلا ہے کہ تقریبا آدھے سے زیادہ تنخواہ دار مزدور غیر رسمی کام میں چلے گئے۔ سنہ 2019 اور 2020 کے آخر تک ان کی آمدنی کی سطح میں بھی نہایت ہی کمی واقع ہوگئی ہے۔


اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل اور مئی میں غریب ترین 20 فیصد گھرانوں نے اپنی پوری آمدنی کھو دی اور امیر ترین گھرانوں کو اپنی وبائی بیماری سے پہلے کے ایک چوتھائی سے بھی بڑھ کر نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ کووڈ۔ 19 کے اثرات سے دوچار لوگوں کو راحت پہنچانے کے لئے عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رپورٹ میں بدھ کے روز ایسے اقدامات کی سفارش کی گئی ہے جس پر حکومت پر لگ بھگ 8 لاکھ کروڑ روپئے اضافی خرچ آئے گا۔


انہوں نے کہا کہ جو اقدامات ہم نے تجویز کیے ہیں اس سے حکومت ہند کے اخراجات کو رواں سال تقریبا 8 لاکھ کروڑ روپے کے درمیان مجموعی جی ڈی پی کے 4.5 فیصد تک لے آئے گا۔ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بین الاقوامی سطح پر کسی بھی طرح کا موازنہ نہیں ہے جو دوسرے ممالک نے اپنے ملکوں کے عوام کے لیے کیا ہے، لیکن ہندوستان کو ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔ اس رپورٹ کے مطابق کچھ ریاستوں میں تقریبا 30 فیصد لوگوں کو پردھان منتری گریب کلیان یوجنا کے مطابق راشن نہیں ملا ہے، جس کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق عوامی تقسیم کے نظام کی جن دھن یوجنا سے زیادہ وسیع رسائی ہے ، اور PDS کے تحت مفت راشن کم سے کم 2021 کے آخر تک جون سے بڑھایا جانا چاہئے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: May 06, 2021 12:24 PM IST