உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ’’ایمیزون ایسٹ انڈیا کمپنی 2.0ہے‘‘ آرایس ایس ہفتہ وارمیگزین پنچانیہ، جانئے مزید تفصیلات

    Youtube Video

    ایسٹ انڈیا کمپنی 2.0 کے عنوان سے لکھا گیا مضمون میں ہے کہ ’’ایسٹ انڈیا کمپنی نے 18 ویں صدی میں ہندوستان پر قبضہ کرنے کے لیے جو کچھ کیا ، وہی ایمیزون کی سرگرمیوں میں نظر آتا ہے‘‘۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      ای کامرس میجر ایمیزون (Amazon) کو آر ایس ایس سے منسلک ہفتہ وار پنچانیہ Panchjanya نے "ایسٹ انڈیا کمپنی 2.0" قرار دیا ہے، جس نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ فرم نے حکومتی پالیسیوں کے لیے کروڑوں روپے رشوت دی ہے۔اپنے تازہ ترین ایڈیشن میں پنچانیہ نے ایک کور اسٹوری پیش کی ہے جو ایمیزون پر انتہائی تنقیدی نقطہ نظر کے تحت ہے۔ جو کہ 3 اکتوبر منظر عام پر آئے گا۔

      ایسٹ انڈیا کمپنی 2.0 کے عنوان سے لکھا گیا مضمون میں ہے کہ ’’ایسٹ انڈیا کمپنی نے 18 ویں صدی میں ہندوستان پر قبضہ کرنے کے لیے جو کچھ کیا ، وہی ایمیزون کی سرگرمیوں میں نظر آتا ہے‘‘۔

      یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ایمیزون ہندوستانی مارکیٹ میں اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ اس نے ہندوستانی شہریوں کی معاشی ، سیاسی اور ذاتی آزادی پر قبضہ کرنے کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں‘‘۔

      ایمیزون کے ویڈیو پلیٹ فارم پرائم ویڈیو کو نشانہ بناتے ہوئے مضمون میں کہا گیا ہے کہ وہ ایسی فلمیں اور ٹیلی ویژن سیریز جاری کر رہا ہے جو ہندوستانی ثقافت کے خلاف ہیں۔

      اس میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ’’ایمیزون نے کئی پراکسی ادارے قائم کیے ہیں اور ایسی اطلاعات ہیں کہ اس نے اپنے حق میں پالیسیوں کے لیے کروڑوں روپے رشوت میں تقسیم کیے ہیں‘‘۔

      ایمیزون فیوچر گروپ کے قبضے کو لے کر قانونی لڑائی میں بند ہے اور اسے مسابقتی کمیشن آف انڈیا (سی سی آئی) کی تحقیقات کا سامنا ہے۔ ایسی اطلاعات آئی ہیں کہ امریکی ای کامرس کمپنی ہندوستان میں اپنے قانونی نمائندوں کی جانب سے دی گئی مبینہ رشوت کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس نے 2018 تا 2020 کے دوران ملک میں موجودگی برقرار رکھنے کے لیے 8546 کروڑ یا 1.2 بلین امریکی ڈالر قانونی اخراجات میں خرچ کیے۔

      مرکزی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے ایمیزون سے متعلق مبینہ رشوت کے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے قبل آر ایس ایس سے وابستہ سودیشی جاگرن منچ نے بھی ایمیزون جیسے ای کامرس پلیئرز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا تاکہ تاجروں کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے قوانین کی خلاف ورزی اور غیر اخلاقی کاروباری طریقوں میں ملوث ہوں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: