உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دنیا کی بڑی کرنسیوں کی قدر میں گراوٹ، لیکن روپے کی قدر اب بھی مستحکم، آخرکیا ہے اس کی وجہ؟

    سال 2022 میں اب تک ڈالر کے مقابلے میں صرف 6.51 فیصد روپیہ گرا ہے۔

    سال 2022 میں اب تک ڈالر کے مقابلے میں صرف 6.51 فیصد روپیہ گرا ہے۔

    Rupee Fall: چیف اکنامک ایڈوائزر وی اننتھا ناگیشورن نے کہا کہ ہندوستانی روپے کی قدر میں کمی پر کنٹرول کیا جارہا ہے اور ریزرو بینک آف انڈیا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کر رہا ہے کہ روپے کی قدر برقرار رہے اور یہ عالمی مارکیٹ کے رجحانات کے مطابق ہو۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Mumbai | Gujarat | Hyderabad | Karnataka
    • Share this:
      Major Currencies In World: عالمی وبا کورونا وارئرس (Covid-19) کے بعد سے دنیا بھر کی بڑی کرنسیوں کی قدر میں گراوٹ آئی ہے۔ جس کی وجہ سے زندگی کے مختلف شعبوں پر اس کا اثر دیکھا گیا ہے۔ سال 2022 میں اب تک ڈالر کے مقابلے میں صرف 6.51 فیصد روپیہ گرا ہے جبکہ آسٹریلوی ڈالر میں تقریباً 7.5 فیصد کمی، جنوبی افریقی رینڈ میں 8.59 فیصد کمی اور جاپانی ین میں 19.79 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔

      دنیا کی دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کتنا گرا ہے؟

      بلومبرگ کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال  14 ستمبر تک پاکستانی روپے میں 23.77 فیصد کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جب کہ جاپانی ین کی قیمت میں 19.79 فیصد، برطانوی پاؤنڈ میں تقریباً 14.92 فیصد، جنوبی کوریائی وان کی قیمت میں 14.53 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ جب کہ یورو حال ہی میں ایک ڈالر سے نیچے گرا ہے۔ موجودہ مالیاتی سال میں اب تک مجموعی طور پر تقریباً 12.15 فیصد گراوٹ دیکھی ہے۔ چینی رینمنبی میں 8.72 فیصد کمی آئی ہے۔ جنوبی افریقی رینڈ تقریباً 8.59 فیصد گر گیا ہے اور آسٹریلوی ڈالر 7.5 فیصد تک گر گیا ہے۔

      ہندوستانی روپیہ موجودہ سال میں 14 ستمبر تک تقریباً 6.51 فیصد گرا ہے، جو یہاں دی گئی ان بڑی کرنسیوں میں سب سے کم ہے۔ اس سال 12 جنوری کو ایک امریکی ڈالر کے مقابلے روپیہ 73.77 پر تھا، جو اب بدھ (14 ستمبر) کو بڑھ کر 79.47 ڈالر پر آ گیا ہے۔ اگست میں ہندوستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے 80.15 کی اب تک کی کم ترین سطح کو پہنچ گیا ہے۔

      جغرافیائی سیاسی بحران

      اس سال ہندوستانی روپے کی گراوٹ غیر ملکی سرمایہ کاری کے مسلسل اخراج کی وجہ سے ہوئی ہے۔ کیونکہ کورونا کے دور میں بیرونی ممالک کے سرمایہ کاروں نے ہندوستان میں پہلے کی طرح سرمایہ کاری نہیں کی۔ روپے کی گراوٹ کی دیگر وجوہات میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، امریکی فیڈرل ریزرو کی سخت مالیاتی پالیسی اور ڈالر کی بڑھتی طاقت کی وجہ بھی شامل ہیں۔ وہیں روس یوکرین جنگ کی وجہ سے پوری دنیا میں جغرافیائی سیاسی بحران کے اثرات نظر آرہے ہیں۔ جس کی وجہ سے عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      پاکستان کا وہ کرکٹر جس کے کھیلنے پر پی سی بی نے لگادی پابندی، کیوں کرنا پڑا اتنا سخت فیصلہ؟

      اس ضمن میں چیف اکنامک ایڈوائزر وی اننتھا ناگیشورن نے کہا کہ ہندوستانی روپے کی قدر میں کمی پر کنٹرول کیا جارہا ہے اور ریزرو بینک آف انڈیا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کر رہا ہے کہ روپے کی قدر برقرار رہے اور یہ عالمی مارکیٹ کے رجحانات کے مطابق ہو۔ ناگیشورن نے مزید کہا کہ روپے کا انتظام اس انداز میں کیا جا رہا ہے جو معیشت کے بنیادی اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      شاہین باغ بلڈوزر معاملے میں عارفہ خانم ایڈوکیٹ اور امانت اللہ خان کو دہلی ہائی کورٹ سے راحت

      انھوں نے مزید کہا کہ روپے کا دفاع نہیں کر رہا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہندوستانی بنیادی اصول ایسے ہیں کہ ہمیں روپے کا دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔ روپیہ اپنا خیال رکھ سکتا ہے۔ ایچ ڈی ایف سی سیکیورٹیز کے تحقیقی تجزیہ کار دلیپ پرمار نے کہا کہ
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: