ہوم » نیوز » عالمی منظر

خوشخبری! سعودی عرب نے کی بڑی تبدیلیاں، اب اپنی مرضی سے نوکری بدل سکیں گے ہندستانی ورکرس

اس کے تحت اب وہاں رہ کر کام کرنے والے ہندوستانی ورکرس خود ہی نوکریاں تبدیل کرسکیں گے۔ دوسرے ممالک کے مزدوروں کو بھی اس کا فائدہ ملے گا۔ اب یہ لوگ بھی اپنے اپنے ملک خود آ جا سکیں گے۔

  • Share this:
خوشخبری! سعودی عرب نے کی بڑی تبدیلیاں، اب اپنی مرضی سے نوکری بدل سکیں گے ہندستانی ورکرس
اس کے تحت اب وہاں رہ کر کام کرنے والے ہندوستانی ورکرس خود ہی نوکریاں تبدیل کرسکیں گے۔ دوسرے ممالک کے مزدوروں کو بھی اس کا فائدہ ملے گا۔ اب یہ لوگ بھی اپنے اپنے ملک خود آ جا سکیں گے۔

نئی دہلی. سعودی عرب (Saudi Arabia) میں کام کرنے والے ہندوستانی ورکررس (Indian Workers) کے لئے بڑی راحت کی خبر ہے۔ دراصل سعودی عرب نے اپنا کفالہ نظام ہٹا دیا ہے اور ایک نیا کفالہ اسپانسر شپ سسٹم نافذ کیا ہے۔ اس کے تحت اب وہاں رہ کر کام کرنے والے ہندوستانی ورکرس خود ہی نوکریاں تبدیل کرسکیں گے۔ دوسرے ممالک کے مزدوروں کو بھی اس کا فائدہ ملے گا۔ اب یہ لوگ بھی اپنے اپنے ملک خود آ جا سکیں گے۔


بتادیں کہ سعودی عرب نے نومبر 2020 میں اپنے یہاں نافذ کفالہ سسٹم میں تبدیلی کرنے اور نئے کفالہ اسپانسر شپ سسٹم کو نافژ کرنے کی بات کہی تھی۔ اسے اب اتوار کو آفیشیل طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت اب ورکرس کیلئے نوکری دینے والی کمپنی یا مالیکوں کی جانب سے غلط رویہ کئے جانے اور استحصال کی حالت میں کم تنخواہ ملنے پر اسی Employer کے ساتھ کام کرتے رہنے کی ہی پاپندی ہٹا دی گئی ہئ۔


سعودی عرب (Saudi Arabia) کے کی وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے اس سلسلے میں معلومات دی ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے تحت غیر ملکی ملازمین کو ایک جگہ سے دوسری جگہ کام کرنے ، ملازمت چھوڑنے ، ملک میں دوبارہ داخل ہونے اور اپنے آجر Employer کی رضامندی کے بغیر واپسی کا حتمی ویزا حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔ سعودی عرب میں مقیم مزدور اب سرکاری خدمات کے لئے براہ راست درخواست دے سکیں گے۔

وزارت نے یہ بھی بتایا ہے کہ نئے کفالہ اسپانسر شپ پروگرام کے تحت اب کمپنی کے مالکان کے ساتھ معاہدے آن لائن کردیئے جائیں گے۔ اس سے پہلے بغیر کمپنی کی اجازت کے مہاجر مزدوروں کو ایسا کچھ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ زیادہ تر ورکرس کو ویزوں کا خوف دکھایا جاتا تھا۔

اس سے قبل سعودی وزیر عبداللہ بن النصیر ابوتونیان نے کہا تھا کہ وہ ملک میں ایک بہتر لیبر مارکیٹ بنانا چاہتے ہیں۔ یہ سعودی عرب میں کام کرنے والے مزدوروں کو ایک بہتر ماحول فراہم کرنے کے بارے میں کہا گیا تھا۔
Published by: Sana Naeem
First published: Mar 14, 2021 02:46 PM IST