உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    SBI گاہکوں کو جھٹکا! بینک نے 1 فروری سے اس سروس کے لئے بڑھائے چارج، دینا ہوگا 20 روپے+GST

    SBI بینک کے گاہکوں کو یکم فروری 2022 سے لگے گا جھٹکا!

    SBI بینک کے گاہکوں کو یکم فروری 2022 سے لگے گا جھٹکا!

    آئی ایم پی ایس (IMPS) یعنی امیڈیٹ موبائل پیمنٹ سروس کہتے ہیں۔ IMPS بینکوں کی جانب سے دی جانے والی مقبول پیمنٹ سروس ہے، جس سے رئیل ٹائم میں انٹر بینک فنڈ ٹرانسفر کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ جو 24x7 دستیاب ہوتی ہے، جس میں اتوار اور چھٹیاں شامل ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: جیسا کہ سبھی جانتے ہیں 1 جنوری سے ATM سے پیسہ نکالنا سمیت کئی چارجس (Bank Charges increased) بڑھ گئے ہیں۔ اسی کے ساتھ اب ملک کا سب سے بڑا بینک اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) یکم فروری 2022 سے ایک اور چارج بڑھانے جارہا ہے۔ ایسے میں اگر آپ کا بھی اکاونٹ بینک میں ہے تو آپ کو بڑا جھٹکا لگنے والا ہے۔ ایس بی آئی کی ویب سائٹ کے مطابق، 1 فروری 2022 سے IMPS ٹرانزیکشن کے لئے ایک نئی سلیب کو جوڑا گیا ہے۔ یہ 2 لاکھ روپےسے 5 لاکھ روپے ہے۔

      جانیے اب کتنا لگے گا چارج؟
      ایس بی آئی کی ویب سائٹ کے مطابق، 2 لاکھ روپے سے 5 لاکھ روپے کے درمیان IMPS کے ذریعے پیسہ بھیجنے کا چارج 20 روپے+ GST ہوگا۔ بتادیں کہ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے اکتوبر 2021 میں IMPS کے ذریعے سے ٹرانزیکشن کی جانے والی رقم کی حد 2 لاکھ روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کردی تھی۔

      جانیے کیا ہوتا ہے IMPS؟
      آئی ایم پی ایس (IMPS) یعنی امیڈیٹ موبائل پیمنٹ سروس کہتے ہیں۔ IMPS بینکوں کی جانب سے دی جانے والی مقبول پیمنٹ سروس ہے، جس سے رئیل ٹائم میں انٹر بینک فنڈ ٹرانسفر کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ جو 24x7 دستیاب ہوتی ہے، جس میں اتوار اور چھٹیاں شامل ہیں۔

      ATM سے پیسہ نکالنا ہوا مہنگا
      جنوری 2022 سے اے ٹی ایم (ATM) سے کیش نکالنا (Cash Transaction) مہنگا ہوجائے گا۔ گاہک کو اے ٹی ایم سے طئے لمٹ سے زیادہ مرتبہ پیسے نکالنے پر زیادہ چارج ادا کرنا ہوگا۔ RBI کے گائیڈلائنس کے مطابق ایکسس بینک یا دیگر بینک کے اے ٹی ایم میں مفت حد سے اوپر کا فائنانشیل ٹرانزیکشن کرنے پر 21 روپئے اور GST دینا ہوگا۔ یہ ترمیم شدہ شرحیں 1 جنوری 2022 سے اثرانداز ہوچکی ہیں۔

      یہ ہے نئی حد
      اگلے مہینے سے گاہکوں کو مفت لین دین کی ماہانہ حد سے زیادہ ہونے پر 20 روپے کی جگہ 21 روپے فی ٹرانزیکشن دینے ہوں گے۔ آر بی آئی نے کہا تھا کہ زیادہ انٹرچینج چارج اور جنرل کاسٹ بڑھنے کی وجہ سے ٹرانزیکشن پر چارج بڑھا کر 21 روپے کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: