உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia Ukraine Crisis: روس کے جن اداروں پر لگی ہے پابندی اُن سے SBI نہیں کرے گا لین دین

    توانائی کی صنعت کے دو سینئر ذرائع کے مطابق، ایس بی آئی نے ہندوستانی تیل کمپنیوں سے روس میں ان کی نمائش کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں جن میں روسی اثاثوں میں حصہ داری، گزشتہ سال روس سے حاصل کردہ فنڈز اور ان لین دین کو روٹ کرنے میں ملوث قرض دہندگان شامل ہیں۔

    توانائی کی صنعت کے دو سینئر ذرائع کے مطابق، ایس بی آئی نے ہندوستانی تیل کمپنیوں سے روس میں ان کی نمائش کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں جن میں روسی اثاثوں میں حصہ داری، گزشتہ سال روس سے حاصل کردہ فنڈز اور ان لین دین کو روٹ کرنے میں ملوث قرض دہندگان شامل ہیں۔

    توانائی کی صنعت کے دو سینئر ذرائع کے مطابق، ایس بی آئی نے ہندوستانی تیل کمپنیوں سے روس میں ان کی نمائش کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں جن میں روسی اثاثوں میں حصہ داری، گزشتہ سال روس سے حاصل کردہ فنڈز اور ان لین دین کو روٹ کرنے میں ملوث قرض دہندگان شامل ہیں۔

    • Share this:
      Russia Ukraine Crisis:یوکرین پر حملے کے بعد روس پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے ہندوستان کا اعلیٰ سرکاری بینک ممنوعہ روسی اداروں کے ساتھ کوئی لین دین نہیں کرے گا۔ یہ معلومات رائٹرز اور اس معاملے سے جڑے لوگوں کے دیکھے گئے خط کی بنیاد پر دی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) کے ذریعہ کچھ صارفین کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ، یورپی یونین یا اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل اداروں، بینکوں، بندرگاہوں یا جہازوں سے متعلق کوئی بھی لین دین، ٹرانزکشن کی کرنسی کے باوجود نہیں کیا جائے گا۔

      ایس بی آئی نے فوری طور پر ای میلز یا کالوں کا جواب نہیں دیا جس میں اس معاملے پر معلومات طلب کی گئی تھی۔ ایس بی آئی کے ایک سینئر اہلکار نے کہا، ’ہماری ایک اہم بین الاقوامی موجودگی ہے اور ان کے دائرہ اختیار میں ہونے کی وجہ سے ہمیں امریکہ اور یورپی یونین کے ضوابط کی تعمیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ان رولس پر عمل نہ کرنے والوں کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔‘

      یوکرین پر حملہ، جسے ماسکو ’خصوصی آپریشن‘ کہتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی یورپی ریاست پر یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔ اس کے بعد بڑے پیمانے پر مذمت اور پابندیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

      روس کے ساتھ گہرے تجارتی اور دفاعی تعلقات رکھنے والے ہندوستان نے اب تک اپنے دیرینہ اتحادی روس کی کھلے عام مذمت نہیں کی ہے لیکن ہندوستان نے تشدد کے خاتمے اور تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری اور بات چیت پر زور دیا ہے۔

      ایس بی آئی نے گاہکوں کو لکھے ایک خط میں ان سے پابندی والے ممالک سے متعلق کسی بھی لین دین کے دوران ’اضافی احتیاط‘ کرنے کی تاکید کی۔ کئی سرکردہ ہندوستانی کارپوریٹ گھرانوں کے اس سرکاری بینک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جس کی بیرون ملک شاخوں کا ایک بڑا نیٹ ورک ہے۔

      توانائی کی صنعت کے دو سینئر ذرائع کے مطابق، ایس بی آئی نے ہندوستانی تیل کمپنیوں سے روس میں ان کی نمائش کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں جن میں روسی اثاثوں میں حصہ داری، گزشتہ سال روس سے حاصل کردہ فنڈز اور ان لین دین کو روٹ کرنے میں ملوث قرض دہندگان شامل ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: