உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Banking Sector Crisis:سیمی کنڈکٹر چپ نے پھنسائے لاکھوں ڈیبٹ کارڈ، چپ کی کمی کی وجہ سے بینکنگ سیکٹر متاثر، لاکھوں کھاتہ دار پریشان

    سیمی کنڈکٹر چپ کی وجہ سے پھنسے ہیں لاکھوں ڈیبٹ کارڈ۔

    سیمی کنڈکٹر چپ کی وجہ سے پھنسے ہیں لاکھوں ڈیبٹ کارڈ۔

    Banking Sector Crisis: ڈیبٹ کارڈ کی دستیابی کو لے کر ملک کے تقریباً تمام بینکوں میں مسئلہ ہے۔ کوشش ہے کہ بیک لاگ کو جلد از جلد ختم کیا جائے اور لوگوں کو جلد از جلد ڈیبٹ کارڈ ملنا شروع کر دیں۔

    • Share this:
      Banking Sector Crisis:نئی دہلی: کئی بینکوں کے لاکھوں کھاتہ دار ڈیبٹ کارڈ نہ ملنے سے پریشان ہیں۔ دراصل ڈیبٹ کارڈ میں استعمال ہونے والی سیمی کنڈکٹر چپ تائیوان میں کورونا انفیکشن کی وجہ سے نہیں بن رہی ہے۔ اس کی وجہ سے ڈیبٹ کارڈ کی تیاری کا کام تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ مختلف بینکوں کے عہدیداروں کی مانیں تو یہ مسئلہ دسمبر تک اسی طرح رہنے والا ہے۔

      کسی طرح کام چلارہے ہیں بینک
      بینک حکام کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے گزشتہ ایک سال میں اکاؤنٹ کھولا ہے یا جن کے کارڈ کی ڈیبٹ کارڈ کی میعاد ختم ہو چکی ہے انہیں پریشانی کا سامنا ہے۔ بینک ان میں سے صرف 20 فیصد لوگوں کی مدد کرنے کے قابل ہے، بینک کسی نہ کسی طرح ان لوگوں کو پہلے سے تیار کردہ کارڈ دے کر کام کر رہے ہیں جنہیں ڈیبٹ کارڈ کی بہت ضرورت ہے۔ یہ کارڈ بھی اب ختم ہونے والی حالت میں ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      PM Kisanمیں اس ڈاکیومنٹ کے بغیر نہیں ہوگا رجسٹریشن، کرنا ہوگا پورٹل پر اپ لوڈ

      تین گنا بڑھ گئی ہے چپ کی قیمت
      اس وقت تائیوان، ملائیشیا، چین، امریکہ میں مقیم چپ ساز کمپنیاں مانگ کا صرف پانچ سے دس فیصد تک پیداوار کر رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے 100 روپے والی چپ اب 300 روپے میں دستیاب ہے۔ اس کمی کی وجہ سے نہ صرف یہ بینکنگ بلکہ آٹوموبائل، الیکٹرانکس سمیت دیگر شعبے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Income Tax Rule: آج سے ہوگا PAN و آدھار لازمی، نقد رقم نکالنے، جمع کرانے کیلئے ہوگاضروری

      مسائل سے نبردآزما بینک
      ڈیبٹ کارڈ کی دستیابی کو لے کر ملک کے تقریباً تمام بینکوں میں مسئلہ ہے۔ کوشش ہے کہ بیک لاگ کو جلد از جلد ختم کیا جائے اور لوگوں کو جلد از جلد ڈیبٹ کارڈ ملنا شروع کر دیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: