ہوم » نیوز » معیشت

سپریم کورٹ لون موریٹوریم پر آج سنائے گا فیصلہ ، جانئے اس کے بارے میں سب کچھ

کورونا بحران کے درمیان ریزرو بینک آف انڈیا کی ہدایت پر سبھی بینکوں نے قرض داروں کو عارضی طور پر راحت دیتے ہوئے چھ مہینے تک کی ای ایم آئی ادائیگی نہیں کرنے کی چھوٹ دی تھی ۔

  • Share this:
سپریم کورٹ لون موریٹوریم پر آج سنائے گا فیصلہ ، جانئے اس کے بارے میں سب کچھ
سپریم کورٹ لون موریٹوریم پر آج سنائے گا فیصلہ ، جانئے اس کے بارے میں سب کچھ

کورونا بحران کے درمیان ریزرو بینک آف انڈیا کی ہدایت پر سبھی بینکوں نے قرض داروں کو عارضی طور پر راحت دیتے ہوئے چھ مہینے تک کی ای ایم آئی ادائیگی نہیں کرنے کی چھوٹ دی تھی ۔ اس کے بعد جب یہ مدت ختم ہوئی تو لون موریٹوریم مدت کیلئے بینکوں کی جانب سے وصول کئے جارہے سود پر سود کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ۔ اب سپریم کورٹ لون موریٹوریم معاملہ پر آج یعنی 23 مارچ 2021 کو اپنا فیصلہ سنائے گا ۔ جسٹس اشوک بھوشن ، آر سبھاش ریڈی اور ایم آر شاہ کی بینچ یہ فیصلہ سنائے گی ۔


کورونا بحران کے دوران دی گئی ای ایم آئی ادائیگی سے چھوٹ کی وجہ سے چھ مہینوں کے دوران جن لوگوں نے لون کی قسط نہیں ادا کی ، انہیں ڈیفالٹر میں نہیں دالا گیا تھا ۔ حالانکہ بینک ان چھ مہینوں کے سود پر سود وصول رہے تھے ۔ بتادیں کہ آر بی آئی نے سب سے پہلے 27 مارچ 2020 کو لون موریٹوریم لاگوکیا تھا ۔ اس کے تحت یکم مارچ 2020 سے لے کر 31 مئی 2020 تک ای ایم آئی ادائیگی سے راحت دی گئی تھی ۔ حالانکہ بعد میں آر بی آئی نے اس کی مدت بڑھا کر 31 اگست 2020 تک کردی تھی ۔ آر بی آئی نے ستمبر 2020 میں سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرکے کہا تھا کہ لون موریٹوریم کو چھ مہینے سے زیادہ وقت کیلئے بڑھانے پر معیشت پر برا اثر ہوگا ۔


مرکزی حکومت نے بھی اس معاملہ میں الگ سے حلف نامہ داخل کیا تھا ۔ سرکار نے حلف نامہ میں کہا تھا کہ موریٹوریم کے چھ مہینوں کے دوران دو کروڑ روپے تک کے لون کی ای ایم آئی پر سود پر سود کا بوجھ مرکزی حکومت اٹھائے گی ، جس کی وجہ سے سرکاری خزانے پر تقریبا سات ہزار کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا ۔


ریزرو بینک نے سبھی بینکوں کو ایک مرتبہ لون ری اسٹرکچر کرنے کی اجازت بھی دی ، وہ بھی قرض کو این پی اے میں ڈالے بغیر ۔ تاکہ کمپنیوں اور افراد کو کورونا کے دوران مالی پریشانیوں سے لڑنے میں مدد مل سکے ۔ اس لون ری اسٹرکچرنگ کیلئے صرف وہی کمپنیاں یا افراد اہل تھے ، جن کے اکاونٹ یکم مارچ 2020 تک 30 دن سے زیادہ ڈیفالٹ اسٹیٹس میں نہیں رہے ہوں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 23, 2021 09:55 AM IST