உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مستری تنازع میں TATA گروپ کی شبیہ کو لگا تھا دھچکہ، کمپنی میں ہوا یہ اہم بدلاو

    ٹاٹا سنس کے سابق چیئرمین سائرس مستری کی ممبئی کے پالگھر میں ایک سڑک حادثہ میں اتوار کو موت ہوگئی ۔

    ٹاٹا سنس کے سابق چیئرمین سائرس مستری کی ممبئی کے پالگھر میں ایک سڑک حادثہ میں اتوار کو موت ہوگئی ۔

    Cyrus Mistry News:۔ 20212 میں رتن ٹاٹا نے ٹاٹا سنس کے چیئرمین کے عہدہ سے ریٹائرمنٹ لے لیا تھا ۔ اس کے بعد پلونجی مستری کے بیٹے سائرس مستری کو ٹاٹا سنس کا چیئرمین بنایا گیا تھا ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Ahmadabad | Delhi | Chennai
    • Share this:
      نئی دہلی : ٹاٹا سنس کے سابق چیئرمین سائرس مستری کی ممبئی کے پالگھر میں ایک سڑک حادثہ میں اتوار کو موت ہوگئی ۔ ٹاٹا گروپ اور سائرس مستری کے درمیان ہوا تنازع ہندوستانی کارپوریٹ دنیا کے سب سے مشہور تنازعات میں سے ایک تھا ۔ قابل ذکر ہے کہ 20212 میں رتن ٹاٹا نے ٹاٹا سنس کے چیئرمین کے عہدہ سے ریٹائرمنٹ لے لیا تھا ۔ اس کے بعد پلونجی مستری کے بیٹے سائرس مستری کو ٹاٹا سنس کا چیئرمین بنایا گیا تھا ۔

      ٹاٹا گروپ نے آنے والے وقت میں سائرس مستری جیسے تنازع کی صورتحال پیدا ہونے سے بچنے کیلئے ایک اہم تبدیلی کی ہے ۔ اس کو لے کر حال ہی میں ٹاٹا سنس نے کمپنی کی سالانہ جنرل میٹنگ کے دوران شیئرہولڈرس کی منظوری بھی لے لی ۔ اب ٹاٹا سنس اور ٹاٹا ٹرس کے چیئرمین کے عہدے الگ الگ ہوگئے ہیں ۔ نئے قانون کے تحت ان عہدوں پر اب کسی ایک شخص کی تقرری نہیں ہوسکے گی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: ٹاٹا سنس کے سابق چیئرمین Cyrus Mistry کی ممبئی کے پاس سڑک حادثہ میں موت


      کیا ہوئی ہے اہم تبدیلی

      ٹاٹا گروپ کی اے جی ایم میں آرٹیکل آف ایسوسی ایشن کی جس تبدیلی کو منظوری دی گئی ، اس میں سب سے خاص بات ٹاٹا سنس کے چیئرمین تقرری کیلئے اب سبھی ڈائریکٹرس کی رضامندی تھی ۔ ساتھ ہی چیئرمین اور ڈائریکٹر کے عہدوں پر تقرری کیلئے مشورہ دینے والی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے ۔

      یہ بھی پڑھئے:  اعضاء کی فوری منتقلی کیلئے ڈرون ٹیکنالوجی سے چلنے والا نیا پروٹوٹائپ لانچ



      سائرس پلونجی مستری ایک کاروباری تھی، جو 28 دسمبر 2012 کو ٹاٹا گروپ کے چیئرمین بنے تھے ۔ بعد میں ٹاٹا گروپ نے 24 اکتوبر 2016 کو سائرس مستری کو چیئرمین کے عہدہ سے ہٹا دیا تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: