உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    TCS کو پھر سے ملا پاسپورٹ سیوا پروگرام کا سرکاری ٹھیکہ، تقریباً 8000 کروڑ روپے کی ہے یہ ڈیل

    کمپنی موجودہ سہولیات اور سسٹمز پر نئے سرے سے کام کرے گی۔

    کمپنی موجودہ سہولیات اور سسٹمز پر نئے سرے سے کام کرے گی۔

    یہ 10 سالوں کی ڈیل ہوگی۔ ٹی سی ایس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پروگرام کے اگلے مرحلے میں کمپنی موجودہ سہولتوں اور پالیسیوں پر پھر سے کام کرے گی۔

    • Share this:
      TCS bags Passport Seva Programme contract: ٹاٹا کنسلٹنسی سروسس نے جمعہ کو کہا ہے کہ پاسپورٹ سیوا پروگرام کے دوسرے مرحلے کے لئے وزارت خارجہ نے اُسے منتخب کیا ہے۔ اکنامک ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق، ڈیل تقریباً 6000-8000 کروڑ روپے کی ہوگی۔ یہ 10 سالوں کی ڈیل ہوگی۔ ٹی سی ایس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پروگرام کے اگلے مرحلے میں کمپنی موجودہ سہولتوں اور پالیسیوں پر پھر سے کام کرے گی۔

      ای پاسپورٹ جاری کرنے کے لئے بائیو میٹرکس، مصنوعی ذہانت، جدید ترین ڈیٹا اینالیٹکس، چیٹ بوٹس، آٹو ریسپانس، نیچرل لینگویج پروسیسنگ اور کلاؤڈ جیسی ٹیکنالوجیز جیسے جدید طریقوں کی مدد سے لوگوں کے تجربات کو بہتر بنائے گی۔ پاسپورٹ سیوا پروگرام کی شروعات 2008 میں ہوئی تھی اور اس کے تحت ٹی سی ایس نے پاسپورٹ سے جڑی سروس مہیا کرانے کے طریقے تبدیل کیے، طریقہ کار ڈیجیٹلائزیشن کیا جب کہ کم وقت، شفافیت اور انحصار کے معاملے میں عالمی معیار قائم کیے۔ ٹی سی ایس بزنس یونٹ سربراہ(پبلک سیکٹر) تیج بھاٹلا نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل انڈیا کی تعمیر میں ٹی سی ایس اہم رول ادا کررہا ہے۔ آج کی خبر کے بعد ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کا شیئر 1.21 فیصدی کی تیزی کے ساتھ 3853 روپے کے سطح پر بند ہوا۔

      پاسپورٹ بنانے کا طریقہ آسان کرنے پر زور
      حکومت پاسپورٹ بنانے کے طریقہ کو زیادہ سے زیادہ آسان اور سہل بنانے کی سمت میں کام کررہی ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں پاسپورٹ آفس کی تعداد میں تیزی سے اُچھال آیا ہے۔ حکومت کی کوشش ہر پارلیمانی حلقے میں ایک پاسپورٹ سیوا سینٹر کھولنے کی ہے۔ جہاں پاسپورٹ سیوا سینٹر یا پوسٹ آفس پاسپورٹ سیوا سینٹر نہیں ہے، وہاں بہت جلد اسے کھولا جائے گا۔

      93 پاسپورٹ سیوا سینٹر ہیں
      وزارت کی جانب سے شیئر کی گئی اطلاع کے مطابق، ابھی ملک میں 93 پاسپورٹ سیوا سینٹر یعنی PSKs، 428 پوسٹ آفس پاسپورٹ سیوا سینٹر (POPSK) اور 36 پاسپورٹ آفس ہیں جو ایکٹیو موڈ میں ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ آرٹیفیشل انٹلیجنس، مشین لرننگ، چیٹ باٹ، اینالیٹکل، روبوٹک پروسس، آٹومیشن جیسی تکنیک کی مدد سے آنے والے دنوں میں یہ کام کافی آسان ہوجائے گا۔ اس سے پاسپورٹ بننے میں لگنے والا وقت بھی کم ہوجائے گا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: