உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ISS: امریکی پابندیوں کااعلان، روس بوکھلاٹ کاشکار، روس نے ہندوستان وچین کودی یہ بڑی وارننگ

    امریکی پابندیوں کے بعد روسی خلائی ایجنسی کے سربراہ نے اس خیالات کا اظہار کیا ہے۔ تصویر : Twitter/@NASA

    امریکی پابندیوں کے بعد روسی خلائی ایجنسی کے سربراہ نے اس خیالات کا اظہار کیا ہے۔ تصویر : Twitter/@NASA

    Russia-Ukraine War: روس اور یوکرین میں جاری جغرافیائی سیاست کی گونج خلا (Space) میں بھی گونجنے لگی ہے، جہاں بقا کے لیے تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ اور روس کے ایک دوسرے کے خلاف ہوجانے کے بعد خلائی شعبہ بھی کئی اعتبار سے متاثر ہوسکتا ہے۔

    • Share this:
      یوکرین (Ukraine) پر روسی افواج کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی حملوں کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن (Joe Biden) کی جانب سے بڑی پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ روس کے خلاف پابندیوں کے اعلان کے چند گھنٹے بعد کہا گیا کہ روس کا خلائی پروگرام نئی پابندیوں کے تحت تنزلی کا شکار ہو جائے گا۔ روسی خلائی ایجنسی Roscomos کے سربراہ Dimitry Rogozin نے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن اپنے تعاون کو روکتا ہے تو خلائی اسٹیشن کو بے قابو ہونے سے کون بچائے گا؟

      روگوزین نے ٹویٹس کی ایک سیریز میں کہا کہ اگر آپ ہمارے ساتھ تعاون کو روکتے ہیں، تو بین الاقوامی خلائی سٹیشن (International Space Station) کو کون بے قابو ہونے اور امریکہ یا یورپ میں گرنے سے بچائے گا؟ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اور چین کے پاس 500 ٹن کا ڈھانچہ چھوڑنے کا آپشن بھی موجود ہے۔

      روسی خلائی ایجنسی کے سربراہ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہندوستان اور چین پر  500 ٹن کے ڈھانچے کو گرانے کا آپشن بھی موجود ہے۔ کیا آپ انہیں اس طرح کے امکان سے ڈرانا چاہتے ہیں؟ آئی ایس ایس روس کے اوپر سے نہیں اڑتی، اس لیے تمام خطرات آپ کے ہیں۔ کیا آپ ان کے لیے تیار ہیں؟


      یہ بیان روس پر پابندیوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے جس نے اپنی ہائی ٹیک درآمدات کو محدود کر دیا ہے جس کا مقصد اس کی فوجی جدید کاری کے امکانات اور خلائی پروگرام کی ترقی کو کم کرنا ہے۔ سرد جنگ کے دور میں خاموشی سے شروع ہونے کے باوجود جب خلائی تحقیق کی بات آتی ہے تو دونوں ممالک دہائیوں سے طویل تعاون کے لیے جانے جاتے ہیں۔

      صدر بائیڈن پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اندازہ ہے کہ ہم روس کی ہائی ٹیک درآمدات میں سے نصف سے زیادہ کاٹ دیں گے۔ اس سے ان کی فوج کو جدید بنانے کی صلاحیت کو دھچکا لگے گا۔ اس سے ان کی ایرو اسپیس انڈسٹری بشمول ان کے خلائی پروگرام کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

      امریکی حکومت اور ناسا (NASA) نے حال ہی میں یورپی اسپیس ایجنسی، جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی، کینیڈین اسپیس ایجنسی، اور روسکوسموس کے ساتھ کام کرتے ہوئے فلائنگ لیبارٹری کے آپریشن کو 2030 تک بڑھایا تھا۔ اڑن چوکی جو ہر 92 منٹ میں زمین کے گرد چکر لگاتی ہے 1990 کی دہائی کے اوائل سے انسانوں کے لیے ایک مستقل پتہ رہی ہے اور انسانوں کو خلا کی گہرائی میں دھکیلنے پر مرکوز تجربات کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ منفرد مائیکرو گریوٹی لیبارٹری نے 4,200 محققین سے 3,000 سے زیادہ تحقیقی تحقیقات کی میزبانی کی ہے۔

      خلائی اسٹیشن کو 2025 تک کام مکمل کرنا تھا۔ ناسا نے خلائی اسٹیشن کو ختم کرنے کے منصوبے بنائے ہیں جب اس کی خدمات 2030 میں اوپری فضا میں دوبارہ داخل ہو کر اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں گی۔

      روس اور یوکرین میں جاری جغرافیائی سیاست کی گونج خلا (Space) میں بھی گونجنے لگی ہے، جہاں بقا کے لیے تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ اور روس کے ایک دوسرے کے خلاف ہوجانے کے بعد خلائی شعبہ بھی کئی اعتبار سے متاثر ہوسکتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: