ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

Twitter NFT Tokens: ٹویٹرصارفین کو'مفت'این ایف ٹی دے رہاہے، لیکن آخرکیوں؟

ٹویٹر نے راربل (Rarible) کی مدد سے ڈیجیٹل آرٹ کے سات مختلف ٹکڑوں میں سے ہر ایک کے لئے 20 این ایف ٹی ورژن بنائے ، جیسے "فرسٹ بون،" "فری ٹویٹر ،"وٹامن ٹی،" اور "ریپلے گاے" کانام دیاگیاہے۔

  • Share this:
Twitter NFT Tokens: ٹویٹرصارفین کو'مفت'این ایف ٹی دے رہاہے، لیکن آخرکیوں؟
ٹویٹر کا دفتر۔(تصویر:shutterstock)۔

نان فنگبل ٹوکنز Non-Fungible Tokens (NFT)) کے بینڈ ویگن میں شامل ہورہے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹویٹر (Twitter) نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے 140 ڈیجیٹل آرٹ ورک کے منتخب صارفین کو این ایف ٹی مفت تقسیم کرے گا۔این ایف ٹی حاصل کرنے کے لیے صارفین کو ٹویٹر پر ٹویٹ کرنا پڑا یا اس کے بارے میں ٹویٹ کرنا پڑا ، جس کے بعد صارفین کمپنی سے ہدایات حاصل کریں گے کہ کس طرح این ایف ٹی کا دعوی کیاجائے۔ ٹویٹر نے راربل (Rarible) کی مدد سے ڈیجیٹل آرٹ کے سات مختلف ٹکڑوں میں سے ہر ایک کے لئے 20 این ایف ٹی ورژن بنائے ، جیسے "فرسٹ بون،" "فری ٹویٹر ،" "وٹامن ٹی ،" اور "ریپلے گاے" کانام دیاگیاہے۔


اپنی این ایف ٹی سروس کی شرائط کے مطابق ٹویٹر نے بتایا کہ جن لوگوں نے این ایف ٹی حاصل کیا ہے وہ دراصل اس فن کے مالک نہیں ہیں اور نہ ہی اس کا کوئی حق رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ این ایف ٹی میں دراصل کوئی فن موجود نہیں ہوتا ہے بلکہ کسی ایسی چیز کو بیان کرنے کا ایک طریقہ ہے جو دنیا میں کسی اور جگہ موجود ہے۔ سروس کی شرائط میں مزید بتایا گیا ہے کہ این ایف ٹی ایک محدود ایڈیشن ڈیجیٹل اثاثہ ہے جو ٹویٹر کے ذریعہ تخلیق کیا گیا ہے جس میں آرٹ ورک شامل ہے جس کی ملکیت یا ٹویٹر کے ذریعہ بنایا گیا ہے جس میں ٹویٹر کے ٹریڈ مارک اور برانڈنگ کے متعدد عناصر شامل ہوسکتے ہیں۔


ٹویٹر کا دفتر
ٹویٹر کا دفتر


مائکروبلاگنگ سائٹ نے یہ بھی بتایا کہ آرٹ ورک یا برانڈ این ایف ٹی نہ تو محفوظ ہے اور نہ ہی ایمبیڈڈ ہے ، بلکہ اس کے ذریعے قابل رسائ ہے۔ این ایف ٹی سے وابستہ آرٹ ورک اور برانڈ لائسنس یافتہ ہے اور اس طرح کے وصول کنندہ کو منتقل یا فروخت نہیں کیا جاتا ہے۔