உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Unclaimed Funds:بینکوں میں بنا دعوے کے رکھے ہوئے ہیں 40ہزار کروڑ روپے، مرکز کو سپریم کورٹ کا نوٹس

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    Unclaimed Funds: جسٹس ایس عبدالنذیر اور جے کے مہیشوری کی بنچ نے صحافی سوچیتا دلال کی عرضی پر مرکزی حکومت، آر بی آئی اور دیگر سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ اہم ہے۔

    • Share this:
      Unclaimed Funds:سپریم کورٹ نے فوت شدہ سرمایہ کاروں، جمع کرنے والوں اور کھاتہ داروں کی 40,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی غیر دعوی شدہ رقم صحیح قانونی ورثاء کو دستیاب کرانے کے لئے ایک طریقہ کار تیار کرنے کے لئے جمعہ کو مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ جسٹس ایس عبدالنذیر اور جے کے مہیشوری کی بنچ نے صحافی سوچیتا دلال کی عرضی پر مرکزی حکومت، آر بی آئی اور دیگر سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ اہم ہے۔

      ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن کے توسط سے دائر پٹیشن میں مہلوک بینک کھاتہ داروں کی بنیادی تفصیلات فراہم کرنے اور قانونی ورثاء کے ذریعے غیر فعال کھاتوں سے رقوم حاصل کرنے کے عمل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے آر بی آئی کے زیر انتظام مرکزی ڈیٹا ویب سائٹ کی ضرورت سے متعلق مسائل بھی اٹھائے گئے۔ درخواست میں قانونی ورثاء یا نامزد افراد کی جانب سے ڈپازٹ کا دعویٰ نہ کرنے کی صورت میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہدایات مانگی گئی ہیں کہ رقم ڈپازٹر ایجوکیشن اینڈ اویئرنس فنڈ (DEAF)، انوسٹر ایجوکیشن اینڈ پروٹیکشن فنڈ (IEPF) اور سینئر سٹیزن ویلفیئر فنڈ (SCWF) میں منتقل کی جائے۔

      اس کے ساتھ ہی، ایک سینٹرلائزڈ آن لائن ڈیٹا بیس پر غیر فعال کھاتوں کے حاملین کی معلومات قانونی ورثاء/نامزد افراد کو دستیاب کرائی جائیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ متوفی سرمایہ کاروں کی معلومات، جن کے ڈپازٹ، ڈیبینچر، ڈیویڈنڈ، انشورنس اور پوسٹ آفس فنڈز وغیرہ کو IEPF میں منتقل کیا گیا ہے، ویب سائٹ پر آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      اب کرایہ داروں کو بھی ادا کرنا پڑے گا 18فیصد GST، جانئے کیا کہتے ہیں نئے قوانین

      یہ بھی پڑھیں:
      خوردنی تیل کی درآمدات کا مسئلہ، مرکز اور ریاستوں کے درمیان NITI Aayog کی میٹنگ

      دو سال میں دوگنا سے زیادہ بڑھی لاوارث رقم
      درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈپازٹر ایجوکیشن اینڈ اویئرنس فنڈ (DEAF) کے پاس مارچ 2021 کے آخر میں 39,264.25 کروڑ روپے تھے، جو کہ 31 مارچ 2020 کو 33,114 کروڑ روپے اور 31 مارچ 2019 کو صرف 18,381 کروڑ روپے تھے۔ یعنی دو سالوں میں یہ رقم دو گنا سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اسی وقت، انوسٹر ایجوکیشن اینڈ پروٹیکشن فنڈ (IEPF) 1999 میں 400 کروڑ روپے سے شروع ہوا، جو مارچ 2020 کے آخر میں 4100 کروڑ روپے سے 10 گنا زیادہ تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: