உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Union Budget 2022: حکومت گولڈ سیونگ اکاونٹ کا کرسکتی ہے اعلان، بینکوں میں کھول پائیں گے یہ کھاتے

    بجٹ 2022: حکومت گولڈ سیونگ اکاؤنٹ کا اعلان کر سکتی ہے، یہ اکاؤنٹس بینکوں میں کھولے جا سکتے ہیں

    بجٹ 2022: حکومت گولڈ سیونگ اکاؤنٹ کا اعلان کر سکتی ہے، یہ اکاؤنٹس بینکوں میں کھولے جا سکتے ہیں

    ایسی امید ہے کہ گولڈ سیونگ پر بھی ساورن گولڈ بانڈ (SGB) کی طرح انٹرسٹ(سود) ملے گا۔ سورین گولڈ بانڈ پر سالانہ 2.5 فیصد سود ملتا ہے۔ حکومت ڈیجیٹل گولڈ کے لئے ریگولیٹری فریم ورک لے کر بھی آسکتی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی:Union Budget 2022:حکومت آنے والے بجٹ میں گولڈ سیونگ اکاونٹ کا اعلان کرسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے حکومت کا مقصد سونے کو فزیکل فارم کو خریدنے سے روکنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس کے ذریعے بڑھتے کرنٹ اکاونٹ خسارے کو بھی قابومیں رکھنا چاہتی ہے۔ اس کے تحت، گاہک بینکوں میں ایسے گولڈ اکاونٹس کھول سکتے ہیں اور ان میں مقررہ بنیاد پر پیسہ جمع کرسکتے ہیں۔ وہ کسی بھی وقت موجودہ سونے کی قیمت پر جمع کی گئی رقم کی نکاسی (Withdraw)بھی کرسکتے ہیں۔ اس سے سرمایہ کاری کے طو رپر فزیکل گولڈ کی ڈیمانڈ گھٹنےکی امید ہے۔

      رپورٹ کے مطابق، ایسی امید ہے کہ گولڈ سیونگ پر بھی ساورن گولڈ بانڈ (SGB) کی طرح انٹرسٹ(سود) ملے گا۔ سورین گولڈ بانڈ پر سالانہ 2.5 فیصد سود ملتا ہے۔ حکومت ڈیجیٹل گولڈ کے لئے ریگولیٹری فریم ورک لے کر بھی آسکتی ہے۔

      ہندوستان کرتا ہے سونے کا بڑی سطح پر امپورٹ
      ہندوستان اپنی 800 سے 850 ٹن سالانہ ضرورت کا زیادہ تر درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے۔ سونے کی درآمد کا اثر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر بھی پڑتا ہے۔ رواں مالی سال کے اپریل سے دسمبر کے عرصے میں سونے کی درآمدات دگنی سے زیادہ ہو کر 38 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بینکرز نے اس معاملے پر حکومت کے ساتھ بات چیت کی ہے۔

      جنوری کی تاریخ گزر چکی ہے اور صارفین اب فروری کے مہینے میں ایس جی بی میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے حکومت نے 28 فروری سے 4 مارچ 2022 تک سبسکرپشن کی تاریخ مقرر کی ہے۔ سبسکرپشن کے بعد گولڈ بانڈ 8 مارچ کو جاری کیا جائے گا۔ ٹرسٹ، اے یو ایف یا ہندو جوائنٹ فیملی اور کوئی بھی فرد سوورین گولڈ بانڈ میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔ اگر ہم SGB کے ریٹرن پر نظر ڈالیں تو 2015 سے 2021 تک ریٹرن 75 فیصد تک رہا ہے۔ جنہوں نے سال 2015-16 میں ایس جی بی میں 1 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی، ان کی رقم 2021-22 میں بڑھ کر 1.75 لاکھ روپے ہو گئی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: