உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    انٹرنیٹ کے بغیر UPI ادائیگی کے لیے پہل، فیچر فون صارفین کے لیے ہوگی ڈیجیٹل ادائیگیاں شروع

    آر بی آئی (RBI) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اعلانات کیے گئے ہیں۔

    آر بی آئی (RBI) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اعلانات کیے گئے ہیں۔

    یو پی آئی لین دین کے حجم کے لحاظ سے ملک میں واحد سب سے بڑا خوردہ ادائیگی کا نظام ہے، جو اس کی وسیع قبولیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ خاص طور پر چھوٹی قیمت کی ادائیگیوں کے لیے یہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    • Share this:
      آر بی آئی (RBI) نے اپنی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا ایک اہم اعلان کیا ہے۔ آر بی آئی (RBI) کے گورنر شکتی کانت داس نے فیچر فونز کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ مرکزی بینک یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) پر مبنی ادائیگی کو فیچر فونز پر دستیاب ہونے کی اجازت دے گا اور آنے والے دنوں میں انٹرنیٹ کے بغیر UPI ادائیگیوں کے نظام کو ممکن بنائے گا۔ آر بی آئی کے گورنر نے حال ہی میں ختم ہونے والی دو ماہی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) میٹنگ کے دوران کیے گئے اپنے فیصلوں کے بارے میں خطاب کے دوران یہ اہم اعلان کیا ہے۔

      شکتی کانتا داس نے ملک بھر کے صارفین کے لیے یو پی آئی ادائیگیوں کو آسان بنانے کے لیے تین اقدامات تجویز کیے ہیں۔ واضح رہے کہ یو پی آئی لین دین کے حجم کے لحاظ سے ملک میں واحد سب سے بڑا خوردہ ادائیگی کا نظام ہے، جو اس کی وسیع قبولیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ خاص طور پر چھوٹی قیمت کی ادائیگیوں کے لیے یہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔

      انھوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو مزید مضبوط بنانے، انہیں مزید جامع بنانے، صارفین کے لیے لین دین کو آسان بنانے، مالیاتی منڈیوں کے مختلف حصوں میں خوردہ صارفین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی سہولت فراہم کرنے اور خدمات فراہم کرنے والوں کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے UPI پر مبنی ادائیگی کو بغیر نیٹ کے شروع کرنے کی تجویز ہے۔ فیچر فون صارفین خوردہ ادائیگیوں پر ریزرو بینک کے ریگولیٹری سینڈ باکس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

      آر بی آئی کے گورنر نے چھوٹی قیمت کے لین دین کے عمل کو آسان بنانے کی تجویز بھی پیش کی۔ آر بی آئی نے جی سیکس اور ابتدائی پبلک آفرنگ (آئی پی او) ایپلی کیشنز میں سرمایہ کاری کے لیے ریٹیل ڈائریکٹ اسکیم کے تحت UPI کے ذریعے ادائیگیوں پر زور دیا اور اس کے لیے لین دین کی حد کو 2 لاکھ روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔

      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: