உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UPI server down: یو پی آئی سرور ڈاؤن، سوشل میڈیا شکایات سے بھر گیا، آن لائن پیمنٹ میں ناکامی

    بڑھتے جارہے ہیں آن لائن دھوکہ دھڑی کے کیسیز۔

    بڑھتے جارہے ہیں آن لائن دھوکہ دھڑی کے کیسیز۔

    یہ بندش اس وقت ہوئی جب وزیر اعظم مودی نے اتوار کے روز اپنے ماہانہ من کی بات ریڈیو نشریات کے دوران UPI آن لائن ادائیگیوں کی تعریف کی۔ لوگوں سے ’کیش لیس ڈے آؤٹ‘ کے لیے جانے کو کہتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ ہر روز تقریباً 20,000 کروڑ روپے کے آن لائن لین دین ہوتے ہیں۔

    • Share this:
      یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) کے سرور کو اتوار کے روز پورے ملک میں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک بندش کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی وجہ سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم شکایات سے بھر گئے ہیں کیونکہ لوگوں کو آن لائن ادائیگی کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ صارفین کے مطابق GPay، Paytm، PhonePe سمیت متعدد یو پی آئی ایپس کے ذریعے آن لائن لین دین پر پیمنٹ نہیں ہو رہا تھا۔

      نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) نے ابھی تک اس بندش کے بارے میں کوئی عوامی بیان نہیں دیا ہے۔ اس سے پہلے اس سال 9 جنوری کو یو پی آئی سرور ڈاؤن ہو گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے خوردہ لین دین میں یو ؤی آئی کا حصہ 60 فیصد سے زیادہ ہے۔ صرف مارچ میں NPCI کے اعداد و شمار کے مطابق کل یو پی آئی لین دین 9.60 لاکھ کروڑ روپے میں سے 540 کروڑ روپے سے زیادہ ریکارڈ کیے گئے۔

      یہ بندش اس وقت ہوئی جب وزیر اعظم مودی نے اتوار کے روز اپنے ماہانہ من کی بات ریڈیو نشریات کے دوران UPI آن لائن ادائیگیوں کی تعریف کی۔ لوگوں سے ’کیش لیس ڈے آؤٹ‘ کے لیے جانے کو کہتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ ہر روز تقریباً 20,000 کروڑ روپے کے آن لائن لین دین ہوتے ہیں۔

      اب چھوٹے گاؤں اور قصبوں میں بھی لوگ یو پی آئی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے دکانداروں اور گاہکوں دونوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ آن لائن ادائیگی ایک ڈیجیٹل معیشت کو ترقی دے رہی ہے، روزانہ 20,000 کروڑ روپے کے آن لائن لین دین ہو رہے ہیں۔

      مزید پڑھیں: TMREIS: تلنگانہ اقلیتی رہائشی اسکول میں داخلوں کی آخری تاریخ 20 اپریل، 9 مئی سے امتحانات

      ہندوستانی مسافر اب یونیفائیڈ ادائیگیوں کا انٹرفیس یعنی UPI پر مبنی ایپس کا استعمال کرکے متحدہ عرب امارات (UAE) میں بغیر کسی رکاوٹ کے ادائیگی کرسکتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو حیرت ہوگی کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) نے خلیجی ممالک میں UPI کی بنیاد پر ادائیگیوں کو فعال کرنے کے لیے مشریق بینک کے NEOPAY کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔

      مزید پڑھیں: Jobs in Telangana: تلنگانہ میں 80 ہزار نئی نوکریوں کا اعلان، لیکن پہلے سے وعدہ شدہ اردو کی 558 ملازمتیں ہنوز خالی!

      متحدہ عرب امارات میں ہندوستانی تارکین وطن کی بہت زیادہ آبادی ہے اور ادائیگی کے طریقوں میں سے ایک کے طور پر یو پی آئی کا ہونا ہندوستانی مسافروں کے لئے ملک میں ادائیگی کرنا بہت آسان بنا دے گا۔ سال 2021 میں یو پی آئی خدمات بھوٹان میں اس کے مرکزی بینک، رائل مانیٹری اتھارٹی کے تعاون سے شروع کی گئیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: