ہوم » نیوز » معیشت

Vitamin D: وٹامن ڈی کے نہایت اہم ہونے کی وجہ سے ہم اس کی بات کر رہے ہیں!

ایک طبی پیشہ ور کی حیثیت سے، میں نے علاج کے دوران مریضوں میں صحت کی خرابی کے آثار دیکھے ہیں، جس سے ہڈی/ پٹھوں میں درد اور تھکاوٹ ظاہر ہوتی ہے۔ صحت میں ان خرابیوں کی سب سے بڑی بنیادی وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہے۔ اسی لئے کسی کے وٹامن ڈی کے استعمال کو ذہن میں رکھنا اور کمی کی ابتدائی علامات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

  • Share this:
Vitamin D: وٹامن ڈی کے نہایت اہم ہونے کی وجہ سے ہم اس کی بات کر رہے ہیں!
وٹامن ڈی کے نہایت اہم ہونے کی وجہ سے ہم اس کی بات کر رہے ہیں!

Vitamin D (وٹامن ڈی) کی اہمیت اس وجہ سے مقبول ہے کیونکہ یہ ہڈیوں کو مضبوط کرنے میں مدد کرتا ہے، لیکن چونکہ وقت گزرنے کے ساتھ جسمانی سرگرمیاں کم ہو گئی ہیں، اور فعال زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے وٹامن ڈی کے کردار کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی سے وابستہ صحت کی مختلف حالتوں پر روشنی ڈالنے کا یہ ایک اچھا وقت ہے۔


ایک طبی پیشہ ور کی حیثیت سے، میں نے علاج کے دوران مریضوں میں صحت کی خرابی کے آثار دیکھے ہیں، جس سے ہڈی/ پٹھوں میں درد اور تھکاوٹ ظاہر ہوتی ہے۔ صحت میں ان خرابیوں کی سب سے بڑی بنیادی وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہے۔ اسی لئے کسی کے وٹامن ڈی کے استعمال کو ذہن میں رکھنا اور کمی کی ابتدائی علامات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔


مجھے یقین ہے کہ ابھی ہمارے پاس صحت کے مختلف قسم کے بحران پر روشنی ڈالنے کا بھی اچھا وقت ہے۔ اگرچہ ہماری کام کی عادات بدل چکی ہیں، اس نے دیگر موجودہ حالات کو بھی بڑھا دیا ہے۔ ایک طبی پیشہ ور کی حیثیت سے، میں نے گذشتہ کچھ مہینوں میں بیچینی والی زندگی گذارنے کے دوران مریضوں میں صحت کی خرابی کے آثار دیکھے ہیں، جو ہڈی/ پٹھوں میں درد اور تھکاوٹ کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ صحت میں ان خرابیوں کی سب سے بڑی بنیادی وجہ Vitamin D (وٹامن ڈی) کی کمی ہے۔ اسی لئے کسی کے وٹامن ڈی کے استعمال کو ذہن میں رکھنا اور کمی کی ابتدائی علامات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔


وٹامن ڈی (Vitamin D) کی کمی سے پوری دنیا میں تقریبا ‎%50 آبادی متاثر ہو رہی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار نے انکشاف کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر ‎%76 ہندوستانیوں میں وٹامن ڈی (Vitamin D) کی سطحیں ناکافی ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ 18-30 سال کی عمر کے ہندوستانیوں میں اس کمی کا پھیلاؤ سب سے زیادہ ہے جو ملک کے تمام خطوں میں یکساں طور پر پھیلا ہوا ہے۔

Vitamin D (وٹامن ڈی) کی کمی ہڈیوں کی کم مقدار اور پٹھوں کی کمزوری سے وابستہ ہے، جس کے نتیجے میں ہڈیوں کے عارضہ اور ہڈیوں کی خرابی جیسے آسٹیومالاسیا (ہڈیوں کی نرمی)، آسٹیوپنیا اور آسٹیوپوروسس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ابھرتی ہوئی تحقیق دل کی بیماری، ٹائپ 2 ذیابیطس، فریکچر اور فالس، افسردگی، کینسر، اور قوت مدافعت کو مضبوط بنانے میں Vitamin D (وٹامن ڈی) کے ممکنہ کردار کی حمایت کرتی ہے۔

لیکن ان علامات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بھی، یہ ضروری ہے کہ مختلف طریقوں سے واقف ہوں جن میں ضروری غذائی اجزاء کی کمی، جیسے Vitamin D (وٹامن ڈی) شامل ہیں جن سے صحت کی متعدد حالتوں پر اثر پڑ سکتے ہیں، یہ بھی ضروری ہے، جیسا کہ میں اپنے مریضوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس طرح کی امکانی صورت و ہنگامی صورت حال سے بچنے کے لیے اچھی صحت کی بنیادی چیزوں کا خيال رکھے۔

Vitamin D (وٹامن ڈی) کے وسائل

 

تکنیکی طور پر، بڑوں کو Vitamin D (وٹامن ڈی) کی معقول مقدار 30 ng/mL کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ وٹامن ڈی کا ایک موثر ذریعہ سورج کی روشنی ہے، جو جلد میں Vitamin D (وٹامن ڈی) سے جسم کے اندر سے نمودار ہونے والی ترکیب میں مدد کرتا ہے۔ صرف کچھ کھانے کی اشیاء ہی روزانہ Vitamin D (وٹامن ڈی)؛ زیادہ تر مچھلی جیسے سامن اور تونا، مچھلی کے جگر کا تیل، پنیر اور انڈے کی زردی کی فراہمی کر سکتی ہیں۔ انڈے درحقیقت بچوں کے لئے Vitamin D (وٹامن ڈی) کا بہترین ذریعہ ہیں۔ صبح 10 سے شام 5 بجے کے درمیان دن میں دو بار دھوپ میں 10-15 منٹ کی پابندی سے آپ کی روزانہ وٹامن ڈی کی ضروریات پوری ہو جانی چاہئے۔ میں زیادہ تر مریضوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ ان میں سے کون سے Vitamin D (وٹامن ڈی) کے ذرائع ان تک سب سے زیادہ قابل رسائی ہے اور یہ کہ وہ اپنی روزانہ کی خوراک لینے کو یقینی بنائیں۔ اگر کوئی کمی ہے تو، انہیں اسے Vitamin D (وٹامن ڈی) کو بڑھا کر اسے پورا کر لینا چاہئے۔

Vitamin D (وٹامن ڈی) کی کمی کی وجہ کیا ہے؟

جو لوگ عام طور پر دھوپ میں کافی وقت نہیں گزارتے ہیں وہ Vitamin D (وٹامن ڈی) کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اگر سورج کی روشنی بہت کم ہے یا سورج کی تمازت سے بچنے کے لیے جلد کی کریم یا تیل وغیرہ کا استعمال 30 SPF سے زیادہ ہے تو اس کی وجہ گھر سے باہر وقت گزارے کے علاوہ بھی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔

آپ کی جلد کا رنگ آپ کے جسم میں Vitamin D (وٹامن ڈی) کی مقدار پیدا کرنے کے لئے باہر زیادہ وقت گزارنے کی آپ کی ضرورت میں بھی معاون ہے۔

موٹاپا VDD سے وابستہ ہے، عام طور پر اس وجہ سے کہ موٹاپا کے علاج سے متعلق مریضوں میں غذائی Vitamin D (وٹامن ڈی) کے جذب کرنے کی صلاحیت اور چربی کی ملبس آپشن سنڈروم کم ہو جاتی ہے، جس میں چھوٹی امعائی غذائی اجزاء جذب کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔ پھر، یقینا، عمر کی طرح زیادہ معمولی وجوہات ہیں جو جسم کی وٹامن ڈی کی ترکیبی صلاحیتوں3 کو بتدریج کم کرتی ہیں۔ لیکن بروقت کاروائی کے ساتھ یہ مجموعی اثرات کو سمجھا جا سکتا ہے۔

 ہم صرف ڈاکٹر کی تجویز پر ہی کمی کی تکمیل پر غور کریں گے؟

ہندوستان میں متعدد قسم کے نسخہ سازی دستیاب ہیں جو معالج کی سفارشات پر منحصر ہوتے ہیں جس کی تکمیل کے لئے ان کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ بہتر جذب کے لیے چربی کی مصنوعات کے ساتھ گرینیولس / ٹیبز/ کیپس جیسے فارمولیشنز کیے جانے کی ضرورت ہے اور نینو مائع فارمولیشنز موجود ہیں جو کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔  وٹامن ڈی (Vitamin D) نانو پارٹیکل فارمولیشنز کے مطالعے میں مریضوں کے معیار زندگی کی اشاریہ میں نمایاں بہتری کے ساتھ مائع فارمولیشنز کی اچھی افادیت ظاہر ہوئی ہے؟ آپ کا معالج فیصلہ کر سکتا ہے کہ آپ کے لئے سب سے زيادہ  مناسب کیا ہے۔

معالجین، صحت کے حکام بچوں سے لے کر بڑوں تک، مریضوں کے مختلف پروفائلز کے ساتھ متعدد خدشات کو دور کرنے اور عمر بھر میں Vitamin D (وٹامن ڈی) کی کمی کی ضروریات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ شعور پیدا کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

Abbott کی D Strong, Active Life’ 'ڈی مضبوط، فعال زندگی' مہم صحت کے مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے جو ہماری قوم کی فلاح و بہبود کے لئے بہت اہم ہے۔ مزيد معلومات کے لیے یہاں کلک کریں۔

دستبرداری:

** یہ Abbott انڈیا کے ساتھ شراکت میں ہے، جسے ’ڈاکٹر منوج ودھوا، ایم سی ایچ (لندن) MCh(U.K)، ایم ایس - آرتھوپیڈکس، بالغ جوائنٹ ریپلیسمنٹ ری کنسٹرکشن فیلو (امریکہ) Adult Joint replacement Reconstruction fellow (USA)، چیئرمین اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر، آرتھوپیڈکس اور جوائنٹ ریپلیسمنٹ کے صاحبزادہ اجیت سنگھ نگر، پنجاب ’کے ELITE انسی ٹیوٹس نے لکھا ہے۔

ڈاکٹر منوج ودھوا


اس مواد میں فراہم کی جانے والی معلومات صرف عام بیداری کے لیے ہے اور اس میں کوئی طبی مشورے نہیں ہیں۔ اپنی حالت سے متعلق کسی بھی سوال یا خدشات کے لیے براہ کرم اپنے معالج سے رجوع کریں۔

حوالہ جات:

 

  1. Ritu G, Gupta A. Vitamin D Deficiency in India: Prevalence, Causalities and Interventions. Nutrients 2014, 6, 729-775

  2. Aparna P et al. Vitamin D deficiency in India. Family Med Prim Care. 2018 Mar-Apr; 7(2): 324–330.

  3. Goel S. Vitamin D status in Indian subjects: a retrospective analysis. Int J Res Orthop. 2020 May;6(3):603-610

  4. Zhang and Naughton. Vitamin D in health and disease: Current perspectives. Nutrition Journal 2010, 9:65

  5. Nair R, Maseeh A. Vitamin D: The “sunshine” vitamin. J Pharmacol Pharmacother. 2012 Apr-Jun; 3(2): 118–126.

  6. Kennel KA, Drake MT, Hurley DL. Vitamin D Deficiency in Adults: When to Test and How to Treat. Mayo Clin Proc. 2010;85(8):752-758

  7. Cleveland Clinic. Vitamin D Deficiency. اس پر دستیاب ہے: https://my.clevelandclinic.org/health/articles/15050-vitamin-d--vitamin-d-deficiency

  8. Bothiraja C, Pawar A & Deshpande G. Ex vivo absorption study of a nanoparticle based novel drug delivery system of vitamin D3(Arachitol Nano™) using everted intestinal sac technique. J Pharma Investing. 2016;46(5):425-432.


یہ ایک مشترکہ پوسٹ ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 29, 2020 12:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading