உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ای۔ والٹ (E-wallet) کیا ہے؟ کیا آنے والے دنوں میں یہ آپ کے پاکٹ کی جگہ لے لے گا؟ جانیے دلچسپ حقائق

    ای والٹ کو چالو کرنے کے لیے صارف کو اپنا پاس ورڈ درج کرنا ہوگا۔ shutterstock

    ای والٹ کو چالو کرنے کے لیے صارف کو اپنا پاس ورڈ درج کرنا ہوگا۔ shutterstock

    ای والٹ (E-wallet) اکاؤنٹ بنانے کے لیے صارف کو اپنے فون پر سافٹ ویئر انسٹال کرنے اور متعلقہ معلومات درج کرنے کی ضرورت ہے۔ آن لائن خریداری کے بعد ای والٹ خود بخود ادائیگی کے فارم پر صارف کی معلومات کو بھر دیتا ہے۔

    • Share this:
      ای والٹ (E-wallet) ایک قسم کا الیکٹرانک کارڈ ہے جو کمپیوٹر یا اسمارٹ فون کے ذریعے آن لائن کی جانے والی لین دین کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کی افادیت کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ جیسی ہے۔ ادائیگی کرنے کے لیے ایک ای والٹ کو فرد کے بینک اکاؤنٹ سے منسلک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

      تفصیل:
      ای-والٹ ایک قسم کا پری پیڈ اکاؤنٹ (pre-paid account) ہے جس میں صارف مستقبل کے کسی بھی آن لائن لین دین کے لیے اپنی رقم محفوظ کر سکتا ہے۔ ای والیٹ پاس ورڈ سے محفوظ ہے۔ ای والیٹ کی مدد سے کوئی بھی گروسری، آن لائن خریداری اور فلائٹ ٹکٹس کے علاوہ دیگر چیزوں کی ادائیگی کر سکتا ہے۔

      ہندوستان اور بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے تعلیمی قرضے پیش کیے جاتے ہیں۔ (تصویر: shutterstock)
      ہندوستان اور بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے تعلیمی قرضے پیش کیے جاتے ہیں۔ (تصویر: shutterstock)


      ای والیٹ میں بنیادی طور پر دو اجزاء ہوتے ہیں، جس میں سافٹ ویئر اور معلومات شامل ہے۔ سافٹ ویئر کا جزو ذاتی معلومات کو ذخیرہ کرتا ہے اور ڈیٹا کی حفاظت اور خفیہ کاری فراہم کرتا ہے۔ معلوماتی جزو صارف کی طرف سے فراہم کردہ تفصیلات کا ایک ڈیٹا بیس ہے جس میں ان کا نام، شپنگ کا پتہ، ادائیگی کا طریقہ، ادا کی جانی والی رقم، کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کی تفصیلات وغیرہ شامل ہیں۔

      ای والٹ (E-wallet) اکاؤنٹ بنانے کے لیے صارف کو اپنے فون پر سافٹ ویئر انسٹال کرنے اور متعلقہ معلومات درج کرنے کی ضرورت ہے۔ آن لائن خریداری کے بعد ای والٹ خود بخود ادائیگی کے فارم پر صارف کی معلومات کو بھر دیتا ہے۔

      ای والٹ کو چالو کرنے کے لیے صارف کو اپنا پاس ورڈ درج کرنا ہوگا۔ آن لائن ادائیگی کرنے کے بعد صارف کو کسی دوسری ویب سائٹ پر آرڈر فارم کو پُر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ معلومات ڈیٹا بیس میں محفوظ ہوجاتی ہیں اور خود بخود اپ ڈیٹ ہوجاتی ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: