உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Cryptocurrency in India: اگر ہندوستان ڈیجیٹل سکے پر پابندی لگاتا ہے تو آپ کی کرپٹو سرمایہ کاری کا کیا ہوگا؟

    ڈیجیٹل سکے صرف کرنسی کی طرح کام نہیں کرتے بلکہ ایک اثاثہ اور ایک شے بھی ہیں۔ تصویر: shutterstock

    ڈیجیٹل سکے صرف کرنسی کی طرح کام نہیں کرتے بلکہ ایک اثاثہ اور ایک شے بھی ہیں۔ تصویر: shutterstock

    تجارتی تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر حکومت کرپٹو کرنسیوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرتی ہے تو پھر بھی سرمایہ کاروں کو اپنے اثاثے فروخت کرنے کے لیے تین سے چھ ماہ کا وقت دیا جاسکتا ہے۔ ڈیجیٹل سکے صرف کرنسی کی طرح کام نہیں کرتے بلکہ ایک اثاثہ اور ایک شے بھی ہیں۔

    • Share this:
      مرکز 29 نومبر سے شروع ہونے والے سرمائی اجلاس کے دوران کریپٹو کرنسیوں (Cryptocurrency) پر نیا قانون کریپٹو کرنسی اینڈ ریگولیشن آف آفیشل ڈیجیٹل کرنسی بل 2021 (Cryptocurrency and Regulation of Official Digital Currency Bill, 2021) کو متعارف کرانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ یہ بل آر بی آئی (RBI) کے ذریعے جاری کی جانے والی سرکاری ڈیجیٹل کرنسی کی تخلیق کے لیے ایک فریم ورک بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

      لوک سبھا کے بلیٹن کے مطابق یہ ہندوستان میں تمام نجی کریپٹو کرنسیوں پر پابندی لگانے کی بھی کوشش کرتا ہے اور کرپٹو کرنسی کی بنیادی ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے کچھ استثنا کی اجازت دے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کرپٹو کو بطور کرنسی تسلیم کرنے کا امکان نہیں ہے، لیکن وہ ڈیجیٹل سکے کو حصص، سونے یا بانڈز جیسے اثاثے کے طور پر رکھنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (SEBI) کو ریگولیٹر کے طور پر نامزد کرنے کی بات چیت بھی ہو رہی ہے۔

      کرپٹو کرنسیوں کو حقیقی کرنسیوں کا متبادل سمجھا جارہا ہے (تصویر: shutterstock)
      کرپٹو کرنسیوں کو حقیقی کرنسیوں کا متبادل سمجھا جارہا ہے (تصویر: shutterstock)


      تو کیا ہوگا اگر ہندوستان کرپٹو پر پابندی لگا دے؟

      اندازے بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں 15 ملین سے 20 ملین کرپٹو سرمایہ کار ہیں، جن کی کل کرپٹو ہولڈنگز تقریباً 40,000 کروڑ روپے (5.39 ڈالر بلین) ہیں۔ مرکز کی جانب سے کریپٹو پر پابندی لگانے کی صورت میں سرمایہ کاروں کے پاس دو بنیادی اختیارات رہ جائیں گے۔ جس میں اپنے اثاثے فروخت کرنا یا اپنے کرپٹو اثاثوں کو آف شور ایکسچینجز (offshore exchanges) سے بٹوے کا ذریعہ شامل ہیں۔

      ان لوگوں کے لیے جو پابندی کے باوجود اپنے ڈیجیٹل سکے رکھنا چاہتے ہیں، اپنے کرپٹو اثاثوں کو سیلف کسٹڈی والیٹس میں منتقل کرنا ہوگا۔ یہ ڈیجیٹل ڈیوائسز ہے، جو مائیکرو ایس ڈی کارڈز کی طرح کام کرتی ہیں۔ جو کہ ایک اسمارٹ آپشن ہوگا۔ یہ سیلف کسٹڈی والیٹس جیسے لیجر، ٹریزر، سیف پال اور بٹ لاکس پر مبنی ہوتا ہے۔

      سرمایہ کاروں کی پرائیویٹ بٹ کوائن کی یا چابیاں محفوظ کرتے ہیں۔ اگر وہ پابندی کی صورت میں اپنے بٹوے کو ہندوستان میں رکھنے کے بارے میں فکر مند ہیں، تو یہ بٹوے بیرون ملک ان کے دوستوں یا خاندان والوں کو بھیجے جا سکتے ہیں۔ تجارتی تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر حکومت کرپٹو کرنسیوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرتی ہے تو پھر بھی سرمایہ کاروں کو اپنے اثاثے فروخت کرنے کے لیے تین سے چھ ماہ کا وقت دیا جائے گا۔

      حکومت نے کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کرنے کی بات کی ہے، اس نے کہا کہ وہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
      حکومت نے کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کرنے کی بات کی ہے، اس نے کہا کہ وہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔


      ایک مکمل کرپٹو پابندی کیوں ممکن نہیں ہے؟

      ڈیجیٹل سکے صرف کرنسی کی طرح کام نہیں کرتے بلکہ ایک اثاثہ اور ایک شے بھی ہیں۔ کریپٹو کرنسی صرف کمپیوٹر کوڈ کے ٹکڑے ہیں جن پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ تاہم ریگولیٹری پابندی مرکزی دھارے کے صارفین کے لیے کرپٹو میں تجارت کرنا مشکل بنا دے گی۔ ہندوستان میں زیادہ تر سرمایہ کار کرپٹو ایکسچینجز پر تجارت کرتے ہیں کیونکہ وہ کرپٹو والیٹس وغیرہ بنانے کے تکنیکی پہلوؤں کو نہیں سمجھتے ہیں۔

      ایک اور بڑی وجہ جس کی وجہ سے ہندوستان میں کرپٹو پر مکمل پابندی عائد کرنے کا امکان نہیں ہے وہ ملک میں سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندوستان میں تقریباً 70 لاکھ افراد کے پاس 1 ڈالر بلین مالیت کی کرپٹو کرنسی ہیں۔ تمام ڈیجیٹل سکوں میں بٹ کوائن (Bitcoin) ملک میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔ بٹ کوائن دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی مانا جاتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: