உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سال 2030 تک بھی غربت کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں، عالمی بینک کی پیش قیاسی

    غریب ترین ممالک کے عوام کو نقصان پہنچائے بغیر ترقی کو ممکن بنایا جاسکے۔

    غریب ترین ممالک کے عوام کو نقصان پہنچائے بغیر ترقی کو ممکن بنایا جاسکے۔

    ورلڈ بینک نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک کو آپسی تعاون کو فروغ دینا چاہیے، وسیع سبسڈی سے گریز کرنا چاہیے، طویل مدتی ترقی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور پراپرٹی ٹیکس اور کاربن ٹیکس جیسے اقدامات کو اپنانا چاہیے، جس سے غریب ترین ممالک کے عوام کو نقصان پہنچائے بغیر ترقی کو ممکن بنایا جاسکے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • INTER, IndiaIndiaIndiaIndia
    • Share this:
      عالمی بینک (World Bank) نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک نئی رپورٹ میں کہا کہ عالمی وبا کورونا وائرس اور یوکرین میں جنگ سے متعلق جھٹکوں کا مطلب ہے کہ دنیا بھر میں 2030 تک انتہائی غربت کے خاتمے کے ایک دیرینہ ہدف کو پورا کرنے کا امکان نہیں ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس وبائی بیماری نے کئی دہائیوں کی غربت میں کمی کے بعد ایک تاریخی موڑ لیا ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020 سے 71 ملین مزید لوگ انتہائی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

      اس کا مطلب یہ ہے کہ 719 ملین لوگ یا دنیا کی تقریباً 9.3 فیصد آبادی صرف 2.15 ڈالر یومیہ پر گزارہ کر رہی ہے۔ یوکرین۔ روس جنگ، چین میں ترقی میں کمی، خوراک اور توانائی کی بلند قیمتوں نے غربت کو کم کرنے کی کوششوں کو مزید روکنے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ تیز نمو کے فوائد کو چھوڑ کر ایک اندازے کے مطابق 574 ملین افراد یا دنیا کی آبادی کا تقریباً 7 فیصد حصہ 2030 تک آمدنی کی موجودہ سطح پر قائم رہیں گے، جن کا زیادہ تر تعلق افریقہ سے ہے۔

      ورلڈ بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس نے کہا کہ غربت اور مشترکہ خوشحالی کی نئی رپورٹ میں دسیوں ملین لوگوں کو درپیش سنگین صورتحال کو ظاہر کیا گیا ہے اور ترقی کو فروغ دینے اور غربت کے خاتمے کی کوششوں کو تیز کرنے میں مدد کے لیے بڑی پالیسی تبدیلیوں پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں انتہائی غربت میں اضافے کے لیے افراط زر، کرنسی کی قدر میں کمی اور وسیع تر اوورلیپنگ بحرانوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ انتہائی غربت میں کمی کی پیش رفت بنیادی طور پر کم عالمی اقتصادی ترقی کے ساتھ رک گئی ہے۔

      غربت کو کم کرنے میں ناکامی کے کئی اسباب:

      عالمی بینک کے چیف اکانومسٹ انڈرمیٹ گل نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں غربت کو کم کرنے میں ناکامی کے کئی اسباب ہیں۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی کوششوں سے بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ ترقی یافتہ معیشتوں میں ترقی کو بھی محدود کر دے گا، کیونکہ انتہائی غربت کی شرح ان اکثر آبادی والے ترقی پذیر ممالک کو عالمی منڈی میں اشیا کے بڑے صارف بننے سے روکے گی۔

      انہوں نے کہا کہ اگر آپ ترقی یافتہ معیشتوں میں خوشحالی کی فکر کرتے ہیں تو جلد یا بدیر آپ چاہتے ہیں کہ ان ممالک کے پاس بڑی منڈیاں ہوں۔ آپ یہ بھی چاہتے ہیں کہ یہ ممالک ترقی کریں تاکہ وہ درحقیقت طلب کے ذرائع بنیں نہ کہ صرف سپلائی تک محدود رہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      ورلڈ بینک نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک کو آپسی تعاون کو فروغ دینا چاہیے، وسیع سبسڈی سے گریز کرنا چاہیے، طویل مدتی ترقی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور پراپرٹی ٹیکس اور کاربن ٹیکس جیسے اقدامات کو اپنانا چاہیے، جس سے غریب ترین ممالک کے عوام کو نقصان پہنچائے بغیر ترقی کو ممکن بنایا جاسکے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: