ہوم » نیوز » معیشت

نیاسال:اگرآپ نےجنوری میں نہیں کیایہ کام توہرروز5ہزارروپئےہوگاجرمانہ۔پڑھیں تفصیل یہاں

سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکس (سی بی ڈی ٹی) کی جانب سے ایک سرکلرجاری کیاگیاہے۔سی این بی سی ٹی وی18نے اس سرکلرکاجائزہ لیاہے۔

  • Share this:
نیاسال:اگرآپ نےجنوری میں نہیں کیایہ کام توہرروز5ہزارروپئےہوگاجرمانہ۔پڑھیں تفصیل یہاں
سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکس (سی بی ڈی ٹی) کی جانب سے ایک سرکلرجاری کیاگیاہے۔سی این بی سی ٹی وی18نے اس سرکلرکاجائزہ لیاہے۔

نئے سال سے ملک میں تاجرین کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتاہے۔ کیونکہ حکومت نے اب صارفین کوڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت فراہم نہ کرنے پردکاندارکو چالان کرنے کا فیصلہ کیاہے۔50 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ کے کاروبار کرنے والے تاجرین کے لئے صارفین کو ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولیات کی فراہمی لازمی قراردی گئی ہے۔ حکومت کیش لیش معیشت کی سمت میں حصول کے لئے مجوزہ ڈیجیٹل طریقوں میں ادائیگی قبول نہ کرنے پرتاجرین پر ایک دن میں 5000 روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا اور اس پر1فروری 2020 سے عمل آوری ہوگی۔


 صارفین کوڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت فراہم نہ کرنے پردکاندارکو چالان کرنے کا فیصلہ
صارفین کوڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت فراہم نہ کرنے پردکاندارکو چالان کرنے کا فیصلہ


سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکس (سی بی ڈی ٹی) کی جانب سے ایک سرکلرجاری کیاگیاہے۔سی این بی سی ٹی وی18نے اس سرکلرکاجائزہ لیاہے۔ جس کے مطابق دکانوں، فرموں یا کمپنیوں کو31 جنوری سے پہلے ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت صارفین کو فراہم کرنے کا مشورہ دیاگیاہے۔سرکلرمیں سی بی ڈی ٹی نے کہاکہ الیکٹرانک طریقوں کے ذریعے ادائیگی قبول کرنے کے لئے ضروری سہولت کو انسٹال اور چلانے کے لئے تاجرین کوکافی وقت دیاگیاہے۔تاہم اب بھی سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکس کوایک سنہرا موقع فراہم کررہاہے کہ وہ31جنوری 2020 کو یا اس سے پہلے ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت کی تنصیب کرکے صارفین کوادائیگی سہولت فراہم کرتے ہیں تو،فائنانس ایکٹ کی دفعہ 271 ڈی بی کے تحت ایسے تاجرین پرجرمانہ عائد نہیں ہوگا۔


صارفین کوادائیگی سہولت فراہم کرتے ہیں تو،فائنانس ایکٹ کی دفعہ 271 ڈی بی کے تحت ایسے تاجرین پرجرمانہ عائد نہیں ہوگا۔
صارفین کوادائیگی سہولت فراہم کرتے ہیں تو،فائنانس ایکٹ کی دفعہ 271 ڈی بی کے تحت ایسے تاجرین پرجرمانہ عائد نہیں ہوگا۔


30 دسمبرکوجاری سرکلرمیں کہا گیاہے، اگرتاجرین ایسے کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو انہیں وہ فائنانس ایکٹ کے تحت 1 فروری 2020 سے روزانہ پانچ ہزار روپئے کا جرمانہ اداہوگا۔ ڈیجیٹل معیشت کی حوصلہ افزائی اورکیش لیس معیشت کے خواب کو پوراکرنے کے لیے، انکم ٹیکس ایکٹ میں ایک نیا انتظام شامل کیا گیا جس میں 50 کروڑ روپئے سے زیادہ کا کاروبار کرنے والے ہرتاجرکولازمی طورپرمقررہ الیکٹرانک طریقوں کے ذریعے ادائیگی قبول کرنے کی سہولیات کی فراہمی کی ضرورت ہوگی۔ .

روپے اور یوپی آئی بغیر کسی مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (MDR) کے ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کی ادائیگی کی سہولت فراہم کرناہے۔ایم ڈی آرڈیجیٹل ٹرانزیکشن کا مطلب یہ ہے کاروباری کی آمدنی کا وہ حصہ جو ایک مرچنٹ بینکوں کودیتاہے۔ ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کے تحت یہ لاگت کا بوجھ بیشترصارفین پرڈالی جارہی ہے۔ یادرہے کہ جولائی میں اپنی بجٹ تقریر میں ، وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے ڈیجیٹل طریقوں کے طورپرادائیگی کوعام کرنے کے مقصد سے حکومت نے بھیم یوپی آئی ، یوپی آئی-کیو آرکوڈ ، بعض بینکوں کے ڈیبیٹ کارڈس کو مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ کی ادائیگی سے چھوٹ دی تھی۔ سی بی ڈی ٹی سرکلر میں کہا گیا ہے کہ "ایم ڈی آر سمیت کسی بھی چارج کا اطلاق 1 جنوری 2020 کو یا اس کے بعد لگائے گئے الیکٹرانک طریقوں کے ذریعے ادائیگی پر نہیں ہوگا۔"

تاجرین ایسے کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو انہیں،فائنانس ایکٹ کے تحت 1 فروری 2020 سے روزانہ پانچ ہزار روپئے کا جرمانہ اداہوگا۔
تاجرین ایسے کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو انہیں،فائنانس ایکٹ کے تحت 1 فروری 2020 سے روزانہ پانچ ہزار روپئے کا جرمانہ اداہوگا۔
First published: Dec 31, 2019 03:22 PM IST