உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    QR کوڈ اسکین کرتے ہی آپ کا پیسہ کسی دوسرے کے اکاونٹ میں بھی جاسکتا ہے، جانیے آن لائن فراڈ سے کیسے بچیں

    QR کوڈ اسکین کرکے آپ کا اکاونٹ ہوسکتا ہے خالی۔

    QR کوڈ اسکین کرکے آپ کا اکاونٹ ہوسکتا ہے خالی۔

    کئی بار لوگ اے ٹی ایم کا پاس ورڈ اے ٹی ایم پن لکھ کر محفوظ کر لیتے ہیں یا بھول جانے کے خوف سے دیگر تفصیلات محفوظ کر لیتے ہیں جو کہ سیکورٹی کے لحاظ سے بالکل غلط ہے۔

    • Share this:
      کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ QR اسکین کرتے ہی آپ کے اکاؤنٹ میں موجود رقم غائب ہو سکتی ہے؟ اگر آپ نے کبھی اس نقطہ نظر سے نہیں سوچا تو آج ضرور سوچیں۔ بصورت دیگر، آپ کا اکاؤنٹ ایک غلطی کی وجہ سے خالی ہو سکتا ہے۔

      آن لائن فراڈ کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے بچنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) نے اپنے صارفین کے لیے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی، بینک نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ محتاط رہیں اور QR اسکین کے ذریعے دھوکہ دہی سے بچیں۔

      SBI نے کہا ’اسکین یا اسکیام‘؟
      ایس بی آئی نے ایک ویڈیو جاری کیا ہے۔ اس میں QR Scan کے عمل کو دکھاتے ہوئے سوال کیا ہے کہ 'اسکین یا اسکیام'؟ ویڈیو کبھی بھی نامعلوم QR کوڈز کو اسکین نہ کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔

      ایس بی آئی نے ٹویٹ کیا کہ کیو آر کوڈ اسکین کریں اور پیسے حاصل کریں، ایسے پیغامات سے ہوشیار رہیں۔ اگر کوئی آپ کو پیسے حاصل کرنے کا لالچ دے رہا ہے، تو اس کے پیچھے نہ پڑیں۔ نامعلوم فون نمبر کو انٹرٹین نہ کریں۔ نامعلوم اور غیر تصدیق شدہ QR کوڈز کو اسکین نہ کریں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      31مارچ کو ختم ہورہی ہے ان 10 کاموں کے لئے آخری تاریخ، نہیں کیے تو ہوگا بڑا نقصان

      QRفشنگ کیا ہے؟
      صارف کے اکاؤنٹ سے متعلق ڈیٹا اس پیٹرن کوڈ میں محفوظ ہوتا ہے جو آپ QR کوڈ میں دیکھتے ہیں۔ جب آپ موبائل فون سے کوڈ کو اسکین کرتے ہیں تو اس میں محفوظ کردہ ڈیٹا ڈیجیٹل زبان میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سائبر کرائم کرنے والے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اسے QR فشنگ کہتے ہیں۔

      کیسے جاتی ہے فراڈ کرنے والوں کے پاس جانکاری؟
      جب آپ کسی ایپ کو استعمال کرنے کے لیے انسٹال کرتے ہیں، تو تمام اطلاعات کو بغیر پڑھے جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس میں آپ کے رابطے کی تفصیلات، گیلری اور مقام کی معلومات شامل ہیں۔ اگر تم سہولت کی خاطر اس سے Deny کر دو تو تم اس کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ جعلساز وہاں سے آپ کا ڈیٹا اٹھا لیتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      پیراسٹامول سمیت 800 دوائیں اپریل سے ہوجائیں گی مہنگی، 10 فیصد تک بڑھیں گی قیمت

      کئی بار لوگ اے ٹی ایم کا پاس ورڈ اے ٹی ایم پن لکھ کر محفوظ کر لیتے ہیں یا بھول جانے کے خوف سے دیگر تفصیلات محفوظ کر لیتے ہیں جو کہ سیکورٹی کے لحاظ سے بالکل غلط ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: