உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    زومیٹو کو تیسرا بڑا جھٹکا، اب کو-فاونڈر موہت گپتا نے دیا استعفیٰ

    زومیٹو کو تیسرا بڑا جھٹکا، اب کو-فاونڈر موہت گپتا نے دیا استعفیٰ

    زومیٹو کو تیسرا بڑا جھٹکا، اب کو-فاونڈر موہت گپتا نے دیا استعفیٰ

    زومیٹو کے نیو اینیشی ایٹیو ہیڈ اور سابق فوڈ ڈیلیوری راہل گونج نے بھی اسی ہفتے کمپنی سے استعفیٰ دیا ہے۔ اس سے پہلے کمپنی کے انٹرسٹی لیجنڈس سروس کے ہیڈ سدھارتھ جھاور نے کمپنی سے استعفیٰ دیا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      کھانے پینے کے سامان کی آن لائن ڈیلیوری کی سہولت دینے والے پلیٹ فارم زومیٹو کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ کمپنی کے کو فاونڈر موہت گپتا نے کمپنی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں یہ زومیٹو میں ہوا تیسرا بڑا استعفیٰ ہے۔

      زومیٹو کے نیو اینیشی ایٹیو ہیڈ اور سابق فوڈ ڈیلیوری راہل گونج نے بھی اسی ہفتے کمپنی سے استعفیٰ دیا ہے۔ اس سے پہلے کمپنی کے انٹرسٹی لیجنڈس سروس کے ہیڈ سدھارتھ جھاور نے کمپنی سے استعفیٰ دیا تھا۔

      گزشتہ ساڑھے چار سالوں سے کمپنی سے جڑے ہوئے تھے موہت گپتا
      موہت گپتا پچھلے ساڑھے چار سالوں سے کمپنی سے جڑے ہوئے ت ھے۔ وہ سال 2018 میں فوڈ ڈیلیوری سیگمنٹ کے ہیڈ کے طو رپر کمپنی کےساتھ جڑے تھے۔ بعد میں 2021 میں انہیں کمپنی میں کو فاونڈر کا درجہ مل گیا اور وہ اس کے نئے بزنس کو دیکھنے لگے۔ وہیں گنجو کو فوڈ ڈیلیوری کا سی ای او بنا دیا گیا تھا۔ زومیٹو میں آنے سے پہلے موہت گپتا آن لائن ٹریول پلیٹ فارم میک مائی ٹرپ کے سی ای او تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ایمیزون کےذریعہ برطرف ہندوستانی شخص نےیوں کی نئی ملازمت کی تلاش! آپ جان کرہونگےحیران!

      جیو کی بادشاہت برقرار، 4 جی ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ اسپیڈ میں لگاتار دوسرے مہینہ نمبر ون

      یہ بھی پڑھیں:
      سرکاری راشن لینے والوں کیلئے حکومت نے بنایا نیا قانون، راشن ڈیلرس پر کسا شکنجہ

      فارچیون کی40 انڈر40 فہرست میں شامل ہوئے دو ہندوستانی نژاد بزنس مین، ان کمپنیوں کے ہیں بانی

      زومیٹو کے فون نمبر لکھے بیگ کا استعمال شروع کیا
      حال ہی میں زومیٹو نے ہاٹ لائن فون نمبر لکھے ڈیلیوری بیگ کا استعمال شروع کیا ہے۔ اس سے اس کے ڈیلیوری پارٹنرس کے خراب ڈرائیورنگ کرنے کی حالت میں ان نمبر پر شکایت کی جاسکے۔ کمپنی کے فاونڈر دیپیندر گوئل نے حال ہی میں یہ جانکاری دی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: