உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Zomato شروع کرے گا سب سے تیز سروس، کئی ریسٹورنٹس کے ساتھ بات چیت آخری مرحلہ میں

    Zomato شروع کرے گا دس منٹ میں ڈیلیوری سروس۔

    Zomato شروع کرے گا دس منٹ میں ڈیلیوری سروس۔

    یہ فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارم ایسا بھی پلان بنا رہا ہے جہاں ریستوراں چنندہ اشیاء کو براہ راست صارفین تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس نے گزشتہ سال جولائی میں اسٹاک مارکیٹ میں اپنے شیئر کی فہرست سازی کے بعد کافی سرمایہ کاری کی ہے۔

    • Share this:
      ممبئی: فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارم زوماٹو 10 منٹ میں ڈیلیوری سروس شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس کے لیے یہ کئی ریسٹورنٹ پارٹنرز کے ساتھ شراکت داری کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔

      کلاؤڈ کچنز کے ساتھ پارٹنر شپ کرے گا
      معلومات کے مطابق زوماٹو کلاؤڈ کچن کمپنیوں اور ریستوراں کے ساتھ مل کر الٹرا فاسٹ ڈیلیوری شروع کرے گا۔ یہ اپنے موجودہ شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کے ابتدائی مراحل میں ہے۔ اس کے بعد یہ 10 منٹ کی سروس شروع کی جائے گی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Russia-Ukraine War: ایمیزون کےروس میں نئےAWSسائن اپس میں خلل، مائیکروسافٹ خدمات بھی معطل

      خود کے کچن سے بھی کرے گا شروعات
      ذرائع کے مطابق زوماٹو پائلٹ بنیادوں پر 10 منٹ کی ڈیلیوری کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ فی الحال، وہ اسے اپنے کچن اور گودام سے شروع کرے گا۔ اسے اپریل سے کچھ شہروں میں ایک پائلٹ پروجیکٹ کے تحت شروع کیا جائے گا۔ اس میں گڑگاؤں پہلا شہر ہوسکتا ہے۔

      بنگلورو میں 15 منٹ میں ڈیلیوری
      Zomato نے پچھلے سال بنگلور میں چار مقامات پر 10 سے 15 منٹ کی ڈیلیوری شروع کی تھی۔ اس کی بنیاد پر اب اسے 10 منٹ میں کئی شہروں میں لانچ کرنے کا منصوبہ ہے۔ اگرچہ کچھ جگہوں پر یہ 20 منٹ میں بھی سروس دیتا ہے۔ ہر چیز گاہکوں کے لوکیشن اور باورچی خانے کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      10 ہزار جرمانے سے بچنا ہے تو فوری کریں یہ کام، 31 مارچ کے بعد مہلت نہیں

      ریسٹورنٹ سیدھے سپلائی کرسکیں گے
      یہ فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارم ایسا بھی پلان بنا رہا ہے جہاں ریستوراں چنندہ اشیاء کو براہ راست صارفین تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس نے گزشتہ سال جولائی میں اسٹاک مارکیٹ میں اپنے شیئر کی فہرست سازی کے بعد کافی سرمایہ کاری کی ہے۔ پچھلے سال اکتوبر میں، اس کے بانی دیپندر گوئل نے کہا تھا کہ ہم صرف ان کاروباروں میں سرمایہ کاری کریں گے، جہاں 10 ارب ڈالر سے زیادہ کا مارکیٹ کیپ جڑسکے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: